خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 11
خطبات طاہر جلد 17 11 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء دے گا اور پیٹ بھرے گا تو تمہارا پیٹ بھرے گا۔پس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نکتہ کو جو بیان فرمایا ہے اس میں اعمال صالحہ کے ساتھ چندے بھی شامل ہیں وہ بھی تمہیں لوٹائے جائیں گے اور ان کی قبولیت کا فائدہ تمہیں من حیث الجماعت پہنچے گا اور ان چندوں سے جماعت کے نفوس اور اموال میں بہت برکت پڑے گی اور جو تمہاری تمنائیں ہیں کہ تم دنیا میں آخری فتح حاصل کرو یہ سارے نظام اس فتح کو قریب تر کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔پس قرضہ حسنہ کا مضمون بہت وسیع 66 ہو جاتا ہے اور اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو اس پر غور کرنا چاہئے۔آگے فرماتے ہیں: یہ خدا کی شان کے لائق ہے جو سلسلہ عبودیت کا ربوبیت کے ساتھ ہے اس پر غور کرنے سے اس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ پڑوں کسی نیکی ، دعا اور التجاء اور بڑوں تفرقہ کا فرو مومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچارہا ہے۔“ پس خدا پر یہ الزام حد سے بڑھی ہوئی جہالت ہے۔وہ رب جو بغیر دُنیا کی التجاؤں کے، بغیر اس کے مانگنے کے، بغیر اس کی ذات پر یقین کے جو کچھ کھا رہی ہے وہ دُنیا اس کے ہاتھوں سے کھا رہی ہے۔تم اتنے بے وقوف لوگ ہو کہ چھوٹی سی ضرورت کے بعد سمجھتے ہو کہ تم نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔اس خدا کو تمہاری حاجت کیا ہوسکتی ہے جو ساری کائنات کا رب ہے۔ادنیٰ سے ادنیٰ جانوروں کو رزق عطا فرما رہا ہے، ان انسانوں کو رزق عطا فرمارہا ہے جو اس کے دین کے مخالف ہیں، ان انسانوں کو رزق عطا فرما رہا ہے جنہوں نے خدا کے بیٹے بنارکھے ہیں، ان کو رزق عطا فرما رہا ہے جو اس کی ہستی کا انکار کر رہے ہیں۔یہ عالمی رحمت اور ربوبیت کا نزول تمہیں اس آیت کے سمجھنے میں مد ہونا چاہئے نہ کہ اس کے برعکس ترجمہ کرو۔اس لئے قرضہ حسنہ کا ہر وہ معنی جو خدا کی اس عالمی ربوبیت کے خلاف کیا جاتا ہے وہ مردود معنی ہے اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔پھر فرماتے ہیں کہ : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا۔اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ - (الزلزال : 8) الحکم جلد 5 نمبر 21 صفحہ: 3 مؤرخہ 10 جون 1901ء)