خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 215
خطبات طاہر جلد 17 215 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء ا Census میں احمدیوں کے ساتھ نام لکھوانا بھی سچا ہوگا ۔ پس اس پہلو پر غور کرتے ہوئے جن لوگوں کے نام ابھی نہیں لکھے گئے کیونکہ سارے پاکستان میں Census کے خلاف فساد برپا ہوا ہوا ہے صرف احمدیوں کا شامل ہونا یا نہ ہونا اُن کو دکھائی دیتا ہے لیکن یہ پتا نہیں کہ ساری زمین ہی اُکھڑ گئی ہے جس پر Census کی بنیاد رکھی جا رہی تھی ۔ مولوی ہمارے خلاف باتیں کرتے اور خود Census کے خلاف اعتراض کرتے ہیں۔ ان کو پتا ہے کہ ان کا ڈھونگ جو انہوں نے اپنے متبعین کا بنا رکھا تھا وہ کھل جائے گا۔ بہر حال ہمیں موجودہ تجارب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے احتیاط کرنی چاہئے۔ میں نے بہت سی احادیث جمع کر رکھی تھیں جو اس سلسلہ میں بیان کرنی تھیں مگر یہ جو پہلا حصہ ہے اس آیت کے تعلق میں اس سے پوری فرصت ہی نہیں ملی لیکن اب تبرکاً دو تین منٹ میں بعض احادیث نبویہ جن کا مجلس شوری یا نظام مشاورت سے تع سے تعلق ہے وہ آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں ۔ حضرت ابوہریرہ سے جامع الترمذی میں یہ روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ ہم سے زیادہ اپنے اصحاب سے کسی کو مشورہ کرنے والا نہ والا نہیں ا پایا۔ جس کا براہ راست خدا را ہنما تھا اس کا یہ حال تھا کہ وہ وجود ملی سا کام اللہ کے اس حکم کے تابع اس کثرت سے مشورے کیا کرتا تھا کہ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی ا کی کم سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا۔ رض (جامع الترمذی، ابواب الجهاد، باب ماجاء في المشورة، حدیث نمبر : 1714) تو آپ لوگ بھی اپنے مشورے کی طاقت کو بڑھائیں۔ بعض دفعہ بیاہ شادی کے موقع پر مشورے کئے جاتے ہیں لیکن اکثر اس نیت سے کہ جو دل میں ہے وہ مشورہ نہ دیا گیا تو ہم مشورہ ہی نہیں مانیں گے۔ اب مجھے تو آئے دن اس سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ کہتے ہیں کیا خیال ہے یہ بہت اچھا رشتہ ہے۔ میں کہتا ہوں میرے نزدیک تو نہایت بے ہودہ رشتہ ہے کیونکہ یہ نہ نماز پڑھتا ہے، نہ چندے دیتا ہے، نہ کسی مسجد سے اس کا تعلق ہے۔ اگر آپ نے دین کو ہی چھوڑ دیا تو آپ کو کیسے خوشی نصیب ہوگی۔ وہ کہتے ہیں شکریہ، مشورہ مل گیا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہے اچھا رشتہ تو اب بتا ئیں اس مشورہ کا اور اس کثرت مشورہ کا کیا فائدہ ۔ یہ مشورے اس ارادے سے کئے جاتے ہیں کہ اگر ہماری مرضی کا جواب ملا تو ہم مانیں گے، نہ ملا تو ہم اس مشورہ کو رد کر دیں گے۔ اور آنحضرت صلی السلام پر کثرت مشورہ کے دونوں پہلو اطلاق پاتے تھے۔ آپ صلی الا یہ کام لوگوں سے کثرت سے مشورہ کیا کرتے تھے اور لوگ