خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 210

خطبات طاہر جلد 17 210 خطبہ جمعہ 27 مارچ1998ء سے تعلق ہے جو کچھ کوئی کر گزرسکتا ہے اُس کو کہیں تم کر گزرو ہم ہرگز تمہیں جائز موقع نہیں دیں گے جیسا ہ رسول اللہ سلیم کا دستور تھا، جائز موقع مخالفت کا نہیں دیں گے لیکن جانتے ہیں کہ تم نے ناجائز مخالفت سے باز نہیں آنا۔پس تمہاری ناجائز مخالفت ہمارے جائز عمل کی راہ نہیں روک سکتی ، ہمارے جائز عزم کی راہ نہیں روک سکتی ، ہمارے تو کل کو متزلزل نہیں کر سکتی۔یہ چیز ہے جو میں بارہا سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ، پیغامات میں بھی اور تقریروں میں بھی مگر یہ ایک بار یک رستہ ہے اس کے تقاضے بہت سے لوگ پورے نہیں کر سکتے۔ان دو باتوں کے درمیان توازن رکھنا عقل اور فراست کو چاہتا ہے اور اس عقل اور فراست کو چاہتا ہے جو ایمان کے نتیجہ میں اور تقویٰ کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔پس تقویٰ پر نظر رکھنا، آخر اسی پر تان ٹوٹے گی۔ساری پاکستان کی جماعتیں تقویٰ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توقعات کے معیار پر پوری اترنی چاہئیں اور اس پہلو سے مجلس شوری کے نمائندگان جب واپس جائیں گے تو آنکھیں کھول کر دیکھیں کیونکہ اکثر آنکھیں میں نے دیکھا ہے کہ کھلتی نہیں ہیں اور غافل رہتی ہیں۔کثرت کے ساتھ ایسی جماعتیں ہیں جن میں صاحب تقویٰ اکثریت میں نہیں ہیں۔صاحب تقویٰ کی کمی ہے اور تقویٰ کے نام پر مشورے دینے والے بے شمار مل جائیں گے یہ مصیبت ہے جو ہمارے سامنے شیر کی طرح منہ کھولے کھڑی ہے اس کے خلاف جہاد ضروری ہے اور یہ جہاد آنکھیں کھولے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : میں کس دف سے منادی کروں۔(نزول مسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ : 474) میرا بھی وہی حال ہے۔آنحضرت سلی لی لی اور مسیح موعود کی غلامی اور پیروی میں جو باتیں میں کہتا ہوں، کہتے ہوئے بعض دفعہ اپنے سامنے چہرے دیکھ رہا ہوتا ہوں اور علم ہوتا ہے کہ ان کو پوری بات نہیں سمجھ آرہی۔سر کے اوپر سے نصیحت گزرگئی ہے دل کو اس طرح انہوں نے جھنجھوڑ نہیں کہ دل کی آنکھیں کھل جائیں اور جب تک یہ آنکھ نہیں کھلے گی آپ کو وہ ترقیات نصیب نہیں ہوسکتیں جن کے متعلق قرآن کریم نے ہم سے وعدہ کیا ہے۔پس جماعتوں کو جھنجھوڑتے رہیں، بار بار جھنجھوڑیں صبح جھنجھوڑیں، شام کو، رات کو جھنجھوڑتے چلے جائیں یہاں تک کہ اُن کی آنکھیں کھلیں۔ان کو کہو تم اپنی روز مرہ کی زندگی میں منتقی نہیں ہو، اپنے معاملات میں متقی نہیں ہو۔جو جھگڑے چل رہے ہیں، جودُ نیا داریاں