خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 211

خطبات طاہر جلد 17 211 خطبہ جمعہ 27 مارچ1998ء ہو رہی ہیں، دین سے بے خبر ہو کر جو پیروی ہو رہی ہے دُنیا کمانے کی ، جو چھوٹے چھوٹے وراثت کے جھگڑے چل رہے ہیں یہ بھلا متقیوں میں بھی ہو سکتے ہیں، ناممکن ہے۔جس قسم کے جھگڑے وہاں چلتے ہیں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر شعبہ میں سے تقومی کونکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔یہ احساس جو شعوری طور پر دل کو جھنجھوڑنے والا ہونا چاہئے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر یہ احساس ایک دفعہ پیدا ہو جائے تو خدا کے خوف سے جان نکلنے لگتی ہے۔انسان اپنی زندگی پر نظر ثانی کرتا ہے، اپنے روزمرہ پر نظر ثانی کرتا ہے ، جانتا ہے کہ اس کے دعاوی کے عین مطابق اس کے نی اعمال نہیں ہیں۔کوشش تو کرتا ہے کہ اعمال دعاوی کے مطابق ہو جائیں مگر اگر وہ سچا ہے اور متقی ہے تو پہچان لے گا کہ ابھی اعمال اور دعاوی میں بہت فرق ہے۔یہ بات ایسی ہے جس کو پورے طور پر ، باشعور طور پر سمجھنے کے بعد پھر آپ کا قدم بغیر روک ٹوک کے آگے بڑھے گا۔پاکستان سے بہت سی خبریں مل رہی ہیں، بہت زیادہ زیادتی کی جارہی ہے محض اس وجہ سے کہ احمدیت پھیل رہی ہے اور مولوی کی جان نکلی ہوئی ہے اس خوف سے کہ یہ تو پھیل جائیں گے ، یہ تو ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔اس کو یہ غم ہے اور مجھے یہ فکر کہ جو پھیل رہے ہیں وہ سچے بھی ہیں کہ نہیں ، وہ واقعہ اس لائق ہیں کہ احمدیت کی آغوش میں آجا ئیں اور اگر نہیں ہیں تو ان کو سنبھالنے کے لئے ہماری جماعت کیا کوشش کر رہی ہے۔مولوی کو اور فکر لاحق ہے، مجھے اور فکر لاحق ہیں۔مولوی کو عددی فکر ہے اس کی بلا سے وہ شخص جو اس کے نزدیک مرتد ہوتا ہے نیک ہو یا بد ہو۔ایک جگہ بھی سارے پاکستان میں یہ واقعہ نہیں ہوا کہ کوئی شخص مولوی کے بہکاوے میں آکر مرتد ہو گیا ہوا اور مولوی نے اس کو نیک بنانے کی کوشش شروع کر دی ہو۔وہ بیچارا آپ نیک نہیں ہے اس نے دوسرے کو کیا نیک بنانا ہے۔ان کو چھوڑ دیتے ہیں شیطان کے حوالہ کر کے اور یہ قطعی ثبوت ہے کہ یہ ارتداد ہے یہ قبول اسلام نہیں ہے۔ارتداد کے نتیجہ میں دل کی خباثتیں بڑھتی ہیں قبول اسلام کے نتیجہ میں دل گناہ کے داغوں سے دھوئے جاتے ہیں۔اب یہ ایک اتنا نمایاں امتیاز ہے کہ سارے پاکستان میں سو فیصد وضاحت کے ساتھ یہ امتیاز اپنا جلوہ دکھا رہا ہے۔ایک مثال اس کے برعکس آپ نہیں دیکھیں گے۔جب بھی کسی احمدی کو توڑا ہے انہوں نے ، وہ نیک نہیں ہوا، وہ بد سے بدتر ہوا اور ہر معاملہ میں پوری بے حیائی اختیار کر لی ، دیانت بھی گئی ، امانت بھی گئی ، تقوی ، نیکی ، ایک دوسرے سے سلوک یہ سب