خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 197

خطبات طاہر جلد 17 197 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء جب پانی ٹھہر جاتا ہے، پانی خود تو اچھی چیز ہے جیسا کہ یہ دونوں صفات بیان کر رہی ہیں لیکن کیچڑ کی آمیزش کی وجہ سے کیونکہ وہ ٹھہر گیا اس لئے کیچڑ پیدا ہوا۔(وه ) بد بودار اور بدمزا ہو جاتا ہے۔چلتا پانی ہمیشہ عمدہ ، ستھرا اور مزے دار ہوتا ہے اگر چہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہومگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔“ یہ معرفت کا نکتہ سب کو سمجھنا ضروری ہے۔ہم جو خدا کے عام بندے ہیں جن کو بہت اعلیٰ بلند مقامات نصیب نہیں ہوئے وہ اپنے نفس کے اندر تہ میں کیچڑ دیکھ کر گھبرائیں نہیں۔کیچڑ سے پاک ہونا بہت بعد کی بات ہے لیکن اگر وہ چلتے پانی بنے رہیں گے تو ان کے نفس کا کیچڑ ان کے اعمال کو گندہ نہیں کر سکے گا اور ان سے بد بو نہیں آئے گی۔ان سے خوشبو اٹھے گی اور ایسا صحت والا پانی بنیں گے جس کو لوگ پئیں گے اور سیراب ہونگے اور اس سے لطف اندوز ہوں گے۔پس کتنی بار یک مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دے دے کر ہمیں متوجہ فرما رہے ہیں کہ گناہ اور نیکی کی حقیقت کیا ہے اور خدا کے ہاں کیا بات مقبول ہے۔” چلتا پانی ہمیشہ عمدہ ، ستھرا اور مزے دار ہوتا ہے اگر چہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہو۔اب اس میں بھی فرمایا ہے۔صاف پتا چلتا ہے کہ بعضوں میں نہیں ہوتا اور کتنے باریک، لطیف اشارہ سے بتا دیا ہے کہ خدا کے ایسے بھی پاک بندے ہیں جن میں کیچڑ نہیں ہوتا مگر بعضوں میں کیچڑ بھی ہوتا ہے۔پس میں کئی دفعہ جماعت کو توجہ دلا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہر لفظ پر ٹھہر کر غور ضروری ہے ورنہ اس کی گنہ کو آپ پاہی نہیں سکتے۔ایک ایک لفظ موتی کی طرح وہیں جڑا ہوا ہے جہاں اسے جڑا ہونا چاہئے۔اگر چہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہومگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھہر نہیں جانا چاہئے (کہ) یہ حالت خطرناک ہے۔ہر وقت قدم آگے ہی 66 رکھنا چاہئے۔نیکی میں ترقی کرنی چاہئے ورنہ خدا ( تعالی ) انسان کی مدد نہیں کرتا۔“ اب ” نیکی میں ترقی کرنی چاہئے ورنہ خدا انسان کی مدد نہیں کرتا۔“ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُخَيَّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمُ (الرعد: 12) کا مضمون دوسرے لفظوں میں بیان فرما دیا ہے۔ایک تو یہ بات ہے کہ اللہ توفیق نہ دے تو نیکی کی طرف قدم آگے نہیں بڑھ سکتا لیکن دوسری طرف انسان کوشش نہ کرے اور یہ سمجھے کہ اللہ مجھے نیک کر دے گا یہ درست نہیں ہے۔کوشش کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے