خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 196

خطبات طاہر جلد 17 و 196 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء سخت کام لیتا ہے، اتنا گھر کا کام دے دیتا ہے کہ بے چارے کے لئے گھر میں بھی آرام میسر نہیں آتا۔یہ مضمون ہے ظالِم لِنَفْسہ، ہر انسان اپنے نفس سے بھی اس کی خاطر ایسا سلوک کرتا ہے جو مشکل ہو مگر ہواس کی خاطر۔وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ اور ان میں مقتصد بھی ہیں جو نسبتا تو ازن اختیار کرنے والے یعنی کچھ ظلم بھی کرتے ہیں کچھ نہیں بھی کرتے خدا جتنی توفیق دیتا ہے ہلکے قدموں کے ساتھ اس راہ پر چلتے ہیں۔وَ مِنْهُم سَابِقٌ بِالْخَيْراتِ اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو خیرات میں سب کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں پہلی دونوں صفات ادنی ہیں۔ظالِم لِنَفْسِہ اور مقتصد کی صفات نسبتا ادنی ہیں۔سابق بِالْخَيْراتِ بنا چاہئے ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔“ فرما یا ظالم لنفسہ اور مقتصد اپنی ذات میں اچھی صفات ہیں مگر ان کے ساتھ سابق بِالْخَيْراتِ کو مجڑ جانا چاہئے۔یہ ایک بالکل نیا مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان آیات کے تسلسل اور رابطے میں بیان فرماتے ہیں۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سابق بِالْخَيْراتِ ان سے الگ بالکل الگ انسان ہے۔یہ لوگ اپنی اپنی جگہ اچھے ہیں اور وہ اپنی جگہ اچھا ہے۔یہ پہلی دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں پڑھا اور اس کی حقیقت سمجھا کہ ظَالِم لِنَفْسِ اور مُقْتَصِدٌ بھی تب خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول ٹھہرے گا اگر وہ سابق بِالْخَيْراتِ بھی ہو۔اور سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ ان دونوں خوبیوں سے کاٹ کر کوئی الگ مضمون نہیں ہو سکتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر کو اب میری وضاحت کے بعد غور سے سنیں تو آپ کو بات سمجھ آ جائے گی۔پہلی دونوں صفات ادنیٰ ہیں۔سابق بِالْخَيْراتِ بنا چاہئے۔ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔دیکھو ٹھہرا ہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا ہے۔“ پس اگر اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ایک دو دفعہ کی آزمائش میں پڑ کر وہیں ٹھہر جائے تو وہ ، وہ شخص نہیں ہے جو کامیابی کو پالے گا۔اگر درمیانی راہ اختیار کرنے والا کچھ عرصہ اعتدال اختیار کر کے پھر تھک جائے تو وہ ہر گز نیکی کو پانے والا نہیں ہے۔فرمایا اس کے لئے لازم ہے کہ وہ جاری رہے۔ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔دیکھو ٹھہرا ہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا 66 ہے، کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بد بودار اور بدمزہ ہو جاتا ہے۔“