خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 195

خطبات طاہر جلد 17 195 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء اور اس پابندی میں ہر شخص جو اس مقام کو پہنچتا ہے یا پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے اس کی ذمہ داری اس وقت تک ادا نہیں ہوتی جب تک اپنے گھر اور گردو پیش کو بھی اپنے جیسا نہ بنانا چا ہے۔ احکام کا پابند ہونا چاہئے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی بچوں ، خویش واقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ۔“ 66 66 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کی یہ باتیں بے اختیار آپ کی محبت کے آنسو آنکھوں سے جاری کر دیتی ہیں۔ کتنا پاکیزہ کتنا مکمل کلام ہے، ابلغ کلام ہے۔ فرمایا اگر تم نے یہ لعل تاباں حاصل کر لیا ہے اس رستہ پر چل پڑے ہو جو میں کہتا ہوں تو پھر صرف تمہارا اکیلے چلنا کافی نہیں ۔ اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہئے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی بچوں ، خویش و اقارب ۔ ان سب کے لئے بھی یہی نمونہ بنو۔ یہی ان کو نصیحت کرو اور ان سب کے لئے رحمت بن جاؤ اور آخر پر فرمایا اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جو ہمارے لئے باعث رحمت ہیں کیسا انکساری کا کلام فرماتے ہیں کہ اگر تم اس بات کا احساس رکھتے ہو کہ مجھے خدا نے مامور کر کے تمہیں کن کن مشکلات ۔ ات سے بچایا ، کن گندی راہوں سے نکالا ، کسی پاک رستہ پر چلا دیا تو شکر کا حق اس طرح بھی ادا کرو کہ میرے واسطے باعث رحمت بنو۔ تمہاری وجہ سے لوگ میرے اعلیٰ اخلاق کو پالیں ، ان کو دیکھ لیں ، تمہاری وجہ سے لوگ جان لیں کہ مجھے تو خدا تعالیٰ نے وہ لعل تاباں تھما دیا ہے پس جب تم وسیلہ بنو گے لوگوں کے مجھ تک پہنچنے کا تو گویا تم میرے واسطے بھی باعث رحمت ہو جاؤ گے۔ بہت ہی پیارا کلام ، بہت ہی عاشقانہ کلام ہے اور جماعت سے جیسی محبت ہے اور جو تقاضے ہیں ان کو یہ کلام خوب کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ فرماتے ہیں : مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْهُم ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ - (فاطر: 33) مراد یہ ہے فَمِنْهُمْ ظَالِم لِنَفْسِہ ان میں سے ایسا انسان بھی ہے جو اپنے نفس کی خاطر اس پر ظلم کرتا ہے ۔ گاديح إلى رَبِّكَ كَنا بعینہ یہی مضمون ہے۔ انسان اپنے نفس کی خاطر اس پر ظلم کرتا ہے جیسے ماں بچے کی خاطر بظاہر بچے پر ظلم کرتی ہے۔ ایک استاد طالب علم کی خاطر بظاہر اس پر ظلم کرتا ہے،