خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد 17 194 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء جماعت کے افراد کی کمزوری یا برے نمونہ کا اثر ہم پر پڑتا ہے اور لوگوں کو خواہ مخواہ اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔پس اس واسطے ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کوشش میں لگے رہو۔“ اب یہ جو کوشش میں لگے رہنا ہے یہ میں بیان کر چکا ہوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سب کو خارج کیوں نہیں کر دیتے۔اس لئے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کوشش میں لگے رہو۔“ جن لوگوں کے متعلق یہ یقین ہے، ایسے آثار نظر آتے ہیں کہ وہ نیکی کی کوشش کر رہے ہیں اور اصلاح کی طرف مائل ہیں ہرگز مجھے اجازت نہیں ہے کہ ان کو جماعت سے باہر قرار دوں کیونکہ مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ مجھ پر حاکم ہیں۔کوشش میں لگے رہو۔جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جاسکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا۔“ اب یہ جو کوشش ہے اس کا انجام فرشتوں کی سی زندگی ہے اور اس زندگی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آیت پیش فرما رہے ہیں وہ ہے يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم: 7) کہ فرشتوں کی حالت سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ انہیں حکم دیا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔کیوں اور کیا اور کیسے کے سوال نہیں اٹھا کرتے۔فرمایا يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ جب میری جماعت اس حال کو پہنچ جائے گی کہ جو کچھ کہا جائے گا وہ اس کو کریں گے تب میں یہ کہہ سکوں گا کہ یہ جماعت فرشتوں کے مقام کو حاصل کر چکی ہے۔فنا فی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہئے۔“ اب فنافی اللہ کا ایک اور مضمون تو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ہے۔دوسرا مضمون ہے جو مشکل راہ سے تعلق رکھتا ہے۔فرشتے تو بنائے ہی ایسے گئے ہیں۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۔ان کی مجال نہیں ہے ادھر اُدھر ہٹ سکیں، اس راہ سے ہٹ سکیں، ان کی صفات میں بالا رادہ رستہ سے ہٹنا داخل ہی نہیں فرمایا گیا لیکن انسان جوفنافی اللہ ہونے کی کوشش کرتا ہے اسے اس رستہ سے گزرنا ہوگا جسے إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ گنگا فرمایا گیا اس کے لئے ہر قدم پر دو امکانات یا احتمالات پیدا ہوتے ہیں۔نیکی کرے یا بدی کرے، نیکی کرے یا بدی کرے ان ٹھوکروں نے رستہ کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔فرماتے ہیں: ”فنافی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہئے۔“