خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 193

خطبات طاہر جلد 17 193 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء انسان جان لیتا ہے کہ میں اپنے رب سے مل چکا ہوں۔یہ یقین کی زندگی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مامور من اللہ کی اطاعت سے، آپ کی پیروی سے نصیب ہوگی اور اس میں جدو جہد بہت ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے بعض لوگوں کے لئے ساری عمر کی ان تھک محنت ہے یا بعض لوگوں کے لئے ساری عمر کی تھکا دینے والی محنت ہے۔دونوں میں سے ایک تو لازم ہے وہ تو بہر حال اختیار کرنی ہوگی۔اب ان باتوں کے بعد اپنی جماعت سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو تو قعات رکھتے ہیں وہ میں آپ کے سامنے پڑھ کے سنادیتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ میں جس رستہ کی طرف بلا رہا ہوں اگر تم میری جماعت کہلاتے ہو تو اپنے وجود سے اس بات کو ثابت کرو کہ تم میری جماعت ہو لیکن جس رستہ کی طرف میں بلا رہا ہوں اگر تم اس پر نہ چلنے والے ہو تو وہ لعل تاباں جو مجھے نصیب ہوا ہے دُنیا تو اس کو نہیں دیکھ سکتی تمہیں دیکھ سکتی ہے اور اگر تم وہ لعل تاباں نہیں ہو بلکہ گندے کوئلہ کی طرح ہو تو کیسے دُنیا کہہ سکتی ہے کہ میں امام وقت ہوں اور میرے پیچھے چلنے والوں نے لعل تاباں حاصل کر لیا یا لعلِ تاباں بن گئے۔فرماتے ہیں: ” جماعت کے افراد کی کمزوری یا برے نمونہ کا اثر ہم پر پڑتا ہے۔“ یہ خیال مت کرو کہ تم آزاد ہو جس طرح کی چاہو زندگی بسر کرو اور ہم پر اس کا اثر نہیں پڑے گا۔اس پر اثر پڑنے کی وجہ سے نظامِ جماعت سے خارج کرنے کی مجبوری پیش آتی ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یونہی سختی کی جارہی ہے۔ہرگز یو نبی سختی نہیں کی جارہی ہختی کی مجھے تکلیف پہنچتی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں اس لئے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ کسی کے بدنمونہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر غلط عکس ڈالا ہے اور ان کو دیکھ دیکھ کر لوگ غلط نتیجے نکالیں گے جب تک اصلاح کا امکان موجود ہے ان کی اصلاح کی جاتی ہے جب کٹ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ اصلاح کے لئے تیار نہیں تو لازماً ان کو جماعت سے اس لئے الگ کرنا پڑتا ہے کہ ان کی وجہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کوئی غلط عکس نہ پڑے۔یہی بات ہے جو مسیح موعود علیہ السلام یہاں کھول رہے ہیں۔