خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 192

خطبات طاہر جلد 17 192 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء نظر کر کے۔‘ ابلغ و محکم انتہائی بلیغ ، اعلیٰ مضامین سے بھری ہوئی اور محکم جس کو ہلایا نہ جا سکے ،ٹلایا نہ جاسکے۔اتنابتا تا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہئے۔اب یہ بھی تعریف Aristotle پر پوری اترتی ہے کیونکہ اس نے صرف اتنا کہا کہ ” ہونا چاہئے لیکن اس سے ذاتی تعلق قائم نہ کیا جوسقراط نے قائم کیا تھا، جو اس کا بھی جد امجد تھا، اس کو علم سکھانے والا سقراط ہی تھا۔تو یہ عجیب بات ہے کہ انسان بعض دفعہ کسی کی پیروی کرتا ہے مگر سو فیصدی پوری پیروی نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو معرفت کی باتیں بیان فرمائی ہیں ان کو سمجھنا کافی نہیں کیونکہ ارسطو نے بھی سقراط کی باتوں کو سمجھا تھا اور اسی کے نتیجہ میں اس کی منطق جب آگے بڑھی اس نے ”ہونا چاہئے تک کا مضمون حاصل کر لیا لیکن اس کو ایک زندہ وجود سمجھ کے اس سے ایک ذاتی تعلق قائم کرنے کی کسی کوشش کا کوئی ذکر ارسطو کی زندگی میں نہیں ملتا۔اگر وہ صاف تھا ، اگر وہ بدیوں سے پاک تھا تو محض اس کردار کی وجہ سے جو سچائی کے نتیجہ میں ضرور پیدا ہوتا ہے خواہ انسان کسی اعلیٰ ہستی کا قائل ہو یا نہ ہو۔سچائی ایک ایسی بنیادی حقیقت ہے، ایسی ہمیشگی کی ایک صفت ہے جو جس شخص میں پائی جائے گی اس میں شرافت پیدا کر دے گی۔یہ شرافت اسے خدا سے ملائے گی یا نہ ملائے گی یہ الگ مسئلہ ہے۔پس ارسطو میں بھی یہ سچائی کی شرافت تھی جس کی وجہ سے اس کی ساری زندگی بہت شریفانہ اور ایک نمونہ کی زندگی تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سے آگے پہنچانا چاہتے ہیں۔فرماتے ہیں: مگر میں اس سے بلند تر مقام پر لے جاتا ہوں۔( جہاں فلسفی کے قدم نہیں پڑتے وہ ایک مقام پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے میں جو مامور من اللہ ہوں ایک بلند تر مقام پر لے جاتا ہوں۔اور اپنے ذاتی تجربوں کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا ہے۔“ الحکم جلد 5 نمبر 46 صفحہ : 4،3 مؤرخہ 17 دسمبر 1901ء) یعنی فیلقیہ کا وعدہ اس دُنیا میں پورا ہو گیا۔اگر چہ اس آیت کا حوالہ نہیں دیا مگر مضمون بعینہ وہی ہے۔ملاقات کے بعد ذاتی تجربہ نصیب ہوتا ہے اور اگر اس دُنیا میں ملاقات نہیں ہوئی تھی تو کیسے فرما سکتے ہیں کہ میں ذاتی تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں۔پس ایک ملاقات تو وہ ہے جو قیامت کے دن ہونی ہی ہونی ہے اس ملاقات کی بنیادیں اس زندگی میں قائم کی جاتی ہیں، کھڑی کی جاتی ہیں اور مرنے سے پہلے