خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 190
خطبات طاہر جلد 17 190 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء سوا وہ کسی بھلائی کی توقع نہیں رکھ سکتا۔پس گناہوں سے بچ کر چلنا یہ گادح إلى رَبِّكَ كَدْحًا والی بات ہے کیونکہ جب بھی انسان رب کی طرف چلتے ہوئے گناہ سے بچتا ہے تو کچھ مشقت اختیار کرتا ہے۔گناہوں سے بچنا آسان نہیں ہے۔ہر گناہ سے بچنے کے لئے کوئی مشقت پیش آتی ہے نیکوں کو کم اور بدوں کو زیادہ اور انبیاء کے لئے وہ مشقت رحمت اور لذت بن جایا کرتی ہے لیکن ہم عام آدمیوں کی باتیں کر رہے ہیں۔اس وقت جو ہم موجود ہیں یا وہ جو خطبہ کو سن رہے ہیں ، جو آگے سنیں گے ان سب کو میں سمجھا رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو کھول کر ایک ایسا خوبصورت جزا کا نقشہ کھینچا ہے جس سے طبیعتوں میں خود بخود اس طرف لپکنے کے لئے خواہش پیدا ہو جائے گی۔وہ پاک زندگی جو گناہ سے بچ کر ملتی ہے وہ ایک لعل تاباں ہے۔“ لعل تاباں اس لعل کو کہتے ہیں جو چمک رہا ہے۔ہر عمل اپنے اندر ایک چمک رکھتا ہے مگر اُردو کے محاورہ میں لعل تاباں اس کو کہتے ہیں جو غیر معمولی چمک رکھتا ہو، جس میں کلیۂ صفائی پائی جائے۔66 ایک لعل تاباں ہے جو کسی کے پاس نہیں۔“ اب کسی کے پاس نہیں تو پھر اس کا مطلب ہے ہر شخص اس سے محروم ہے۔مراد یہ ہے کہ جس زمانہ میں یہ مامور من اللہ خطاب فرمارہا تھا اس زمانہ میں یہ عمل آپ کے سوا کسی کو نصیب نہیں تھا۔وہ ایک لعلِ تاباں ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے ہاں خدا تعالیٰ نے وہ لعلِ تاباں مجھے دیا ہے۔(اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کتنے محتاط ہیں۔یہ نہیں فرمایا میرے پاس ہے، اس میں ایک تکبر کا رنگ پایا جاتا تھا۔) ہاں خدا تعالیٰ نے وہ لعل تاباں مجھے دیا ہے اور مجھے اس نے مامور کیا ہے کہ میں دنیا کو اس لعلِ تاباں کے حصول کی راہ بتادوں۔“ دیا تو ہے مگر اس لئے نہیں کہ صرف میرے پاس ہی رہے گا۔اس غرض سے دیا اور مجھے مامور فرمایا گیا ہے کہ میں ساری دُنیا کو اس لعل کو حاصل کرنے کی راہ بتادوں۔گویا آج کی ساری جماعت بھی اور دوسرے انسان بھی جو جماعت میں ابھی داخل نہیں وہ اس نصیحت پر غور کریں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو عل تاباں عطا ہوا ہے وہ ان کو بھی حاصل ہوسکتا ہے۔