خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 186
خطبات طاہر جلد 17 186 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء کتاب دی جائے گی کہ دیتے ہوئے اس کو معلوم ہو جائے گا کہ میرا حساب آسان ہونا ہے کیونکہ دین کے رستہ سے اس کو کتاب مل رہی ہے۔ شمال سے مراد بایاں ہاتھ یا بدیوں کا رستہ ہے۔ تو وہ لوگ جن کو کتابیں دی جائیں گی وہ ایک ہی سمت سے اس طرح نہیں دی جائیں گی کہ معاملہ سب پر خلط ملط رہے بلکہ سارا محشر دیکھے گا کہ جن لوگوں کو عزت عطا ہونے والی ہے ان کو ان کے داہنے ہاتھ میں کتابیں تھمائی جائیں گی اور جن کے لئے ذلت مقدر ہے ان کو ان کے بائیں ہاتھ میں کتا بیں تھمائی جائیں گی ۔ وَ أَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِشِمَالِهِ پس یقیناً وہ شخص جس کو بائیں ہاتھ سے کتاب دی جائے گی یا بائیں ہاتھ میں کتاب تھمائی جائے گی ۔ يَقُولُ يُلَيْتَنِي لَمْ أَوْتَ كِتَبِيَهُ۔ یعنی وہ منظر خود بتادے گا کہ میں مارا گیا ، اس شخص کو بتا دے گا کہ وہ مارا گیا اور بے اختیار کہے گا ۔ یكيْتَنِي لَمْ أَوْتَ كتبية ۔ کاش ایسا ہوتا کہ مجھے میری کتاب نہ دی جاتی ۔ وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیہ اور میں کبھی نہ جان سکتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ يلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ - الحاقة : 26 تا 28 ) وائے افسوس کہ یہ تو ایک فیصلہ کن چیز ہے، فیصلہ کن کتاب ہے۔ آنحضرت صلی ا ہم نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے اور اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی الا یہ کام خود بھی یہ دعا کیا کرتے تھے کہ میرا حساب آسان کر دے اور حضرت عائشہ اس پر متعجب تھیں کہ آنحضرت صلی لا کہ ہم اپنے حساب کی باتیں کیوں کرتے ہیں اور اپنے آسان حساب کی کیوں باتیں کرتے ہیں۔ آپ تو بے حساب بخشے جانے والے انسان ہیں۔ صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن سورة اذا السماء انشقت باب فسوف يحاسب حساباً يسيراً - اس میں دو روایتیں ہیں جو میں نے چنی ہیں ۔ دونوں میں یہی مضمون ہے لیکن وہ مضمون ایک دوسرے کو کھول رہا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی الا السلام نے فرمایا: ”جس سے حساب لیا گیا وہ تباہ ہو گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی علما اسلام میں آپ پر قربان کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ۔ 66 یہ کیا بات ہے میں قربان آپ صلی الا السلام کے ، آپ کی بات سچ ہے آپ صل الا السلام فرمارہے ہیں جس سے حساب لیا گیا وہ تباہ ہو گیا لیکن ساتھ ہی قرآن کریم میں یہ بھی تو فرمایا گیا ہے : فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَبَه