خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد 17 184 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء ہرانسان جو خدا کی خاطر محنت کر رہا ہے اسے بالآخر اس سے ملنا تو ہے مگر اگر اس کی محنت کامیاب نہ ہو یعنی رستہ کی مشکلات اس پر حاوی رہیں اور ملنے کی راہ میں شیطانی روکیں بہت بڑی ہوں جن کو پوری طرح عبور نہ کر سکے ، تو ملے گا تو یہ بھی، مگر حِسَاباً يسيرا کے ساتھ نہیں ملے گا اس رستہ کی بہت سی غلطیاں ایسی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ معافی کے لائق نہیں سمجھے گا۔اس لئے معافی کے لائق جو غلطیاں ہیں ان کے لئے حِسَابًا يسيرا کا لفظ استعمال ہوا ہے جو غلطیاں خدا کے علم میں معافی کے لائق نہیں ان کے لئے یہ خوش خبری نہیں ہے کہ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتبه ببینه حساب تو دونوں کا ہوگا لیکن ایک مشکل حساب ہے اور ایسا حساب ہے جیسا کہ احادیث نبوی صلی اینم سے پتا چلتا ہے کہ بار یک نظر سے ان کے کھاتوں کا مطالعہ کیا جائے گا اور ہر غلطی کو نکال کے نمایاں کر دیا جائے گا۔اس قسم کے حساب کا تجربہ انسان کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں ہوتا ہی رہتا ہے۔بعض لوگ ایسے جوں کے سامنے پیش ہوتے ہیں جو فیصلے کئے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اس کو پکڑنا ہے اس کے سارے کھاتے منگوا لیتے ہیں اگر چہ اپنی طرف سے سب اچھی طرح کھنگال کر دیکھتے ہیں اور جہاں کوئی غلط بات نکلے اس کو نمایاں کر دیتے ہیں اور اس میں ان کا ضد اور تعصب شامل ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ جب حساب کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں کسی ضد کا تعصب کا سوال نہیں۔خدا کے علم میں ہر چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی ہے اور سب بڑی سے بڑی غلطیاں بھی ہیں۔ان غلطیوں پر نظر رکھتے ہوئے وہ قیامت کے دن حساب کتاب سے پہلے یہ فیصلہ کر چکے گا کہ فلاں شخص کا اعمال نامہ اتنا گندہ ہے اور اتنی بالا رادہ غلطیاں شامل ہیں کہ اسے معاف نہیں کرنا اور چونکہ معاف نہیں کرنا اس لئے سب عالم کے سامنے یوم محشر میں ہر ایک کے سامنے اس کا کھاتہ خود بولے گا اور ایسا بولے گا کہ ہر شخص مطمئن ہو جائے گا کہ اس سے کوئی نا انصافی نہیں کی گئی۔جو کچھ کہا گیا ہے بعینہ اسی کا اُس کا اعمال نامہ نقاضا کر رہا تھا۔پس ایک یہ ہے گنگا جس رستہ سے انسان گزرتا ہے یا گزرے گا لازماً پہنچنا تو ہے وہاں اور کن مشکلات کے ساتھ پہنچنا ہے یا کس آسانی کے ساتھ ، یہ اس نے فیصلہ کرنا ہے۔اس ضمن میں قرآن کریم کی بعض اور آیات بھی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جواسی مضمون پر روشنی ڈال رہی ہیں۔سورۃ النبا میں لا يَسعُونَ فِيهَا لَغُوا وَلَا كِتابًا۔اہل جنت کے متعلق خوشخبری ہے کہ وہاں نہ وہ کوئی لغو بات سنیں گے نہ كِذَّابًا جَزَاء مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاء