خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 181

خطبات طاہر جلد 17 181 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء نہیں پھینکتا۔اللہ تعالیٰ تو فضل پھینکتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی ال ای یتیم کے نصائح تو پھولوں کی طرح اترتے ہیں اس کے باوجود آپ کا یہ حال ہو کہ ان پر سیخ پا ہوں اور اپنے وجود کو بدلنے کے لئے کوئی کوشش نہ کریں۔یہ حد سے زیادہ زیادتی اور ظلم ہوگا۔یہ پھول ہیں جن کو آپ نے چننا ہے۔وہ کانٹے ہیں جن سے بچانے کے لئے نصائح کی جاتی ہیں۔اس لئے اپنی بھلائی کا رستہ اختیار کریں خود آپ کا بھلا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہی سچا طریق گناہ سے بچنے کا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ پر کامل یقین پیدا کرے اور اس کے سزاو جزا دینے کی قوت پر معرفت حاصل کرے۔یہ نمونہ گناہ سے بچنے کے طریق کے متعلق خدا نے ہماری فطرت میں رکھا ہوا ہے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس اصول کو آپ کے سامنے پیش کردوں۔کیا عجب آپ کو فائدہ پہنچے۔( یعنی آسٹریلوی سیاح سے فرمارہے ہیں ) اور چونکہ آپ سفر کرتے رہتے ہیں اور مختلف آدمیوں سے ملنے کا آپ کو اتفاق ہوتا ہے۔آپ اُن سے اسے ذکر بھی کر سکتے ہیں۔“ فرمایا جس طرح پہلے نصیحت کی تھی کہ جو بھی اس نصیحت کو سنے آگے پہنچائے۔تو مسافر کے اسباب کے پھیلنے کی طرح اس کے سامنے ایک بات رکھی اور اس سے ایک مضمون نصیحت کا نکالا اور پھر فرمایا کہ آپ چونکہ مسافر ہیں اور اکثر پھرتے رہتے ہیں اس لئے میں نے سوچا کہ آپ کے سامنے بات پیش کروں تا کہ آپ آئندہ دنیا میں جہاں بھی سفر کریں اس نصیحت کو آگے چلاتے رہیں۔یہ میری طرف سے آپ کو ایک تحفہ ہے اور میں ایسے تحفے دے سکتا ہوں۔( جانے والے کو اچھی نصیحت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا جا سکتا جو اس کا زادراہ بن جائے۔فرمایا :) یہ میری طرف سے آپ کو ایک تحفہ ہے اور میں ایسے تحفے دے سکتا ہوں۔ہر شخص جو دنیا میں آتا ہے اس کا فرض ہونا چاہئے کہ دھو کے اور خطرہ سے بچے۔پس گناہ کے نیچے ایک خطرناک اور تمام خطروں اور دھوکوں سے بڑھ کر ایک دھوکا ہے۔“ یہ وہ مخفی دل کی حالت ہے جو چھپی ہوئی ہے اور اکثر گناہ گار کی اپنی نظر سے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔کوئی گناہ ظاہر ہو ہی نہیں سکتا جب کہ دل کے اندر چھپا ہوا گناہ موجود نہ ہولیکن وہ دھوکا ہے، دھوکا ان معنوں میں کہ دکھائی نہیں دے گا انسان معین طور پر اس کی شناخت نہیں کر سکتا۔