خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 175
خطبات طاہر جلد 17 175 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء تمہارا نام میری جماعت میں لکھا جائے تو یہ اسم نویسی ہے جیسے بیعت کے فارموں پہ نام لکھے جاتے ہیں ، جماعت کی فہرستوں میں اسماء لکھے جاتے ہیں۔فرمایا یہ تو اسم نویسی ہے اس سے کوئی جماعت میں داخل نہیں۔یہ خیال کر لینا کہ تجنید کی فہرستوں میں ہمارا نام ہے اور یہ سمجھ لینا کہ چونکہ تجنید میں نام ہے اس لئے ہم جماعت میں داخل ہیں۔فرمایا یہ غلط بات ہے اس کو نام لکھنا کہتے ہیں۔پس اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ہاں جب تک وہ حقیقت کو اپنے اندر پیدا نہ کرے۔اسم نویسی کے بعد جو احمد یہ جماعت کی حقیقت ہے جسے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھول کھول کر بیان فرماتے ہیں اس حقیقت کو اپنے اندر جب تک پیدا نہ کرے اس اسم نویسی کا کوئی فائدہ نہیں۔یہ حقیقت کیا ہے آپس میں محبت کرو۔اتلاف حقوق نہ کرو۔؟ آپس میں محبت کرو اور اتلاف حقوق نہ کروایک ہی چیز کے دو پہلو ہیں۔جس سے آپ کو پیار ہو اس کا حق تلف تو نہیں کرتے۔کبھی ماؤں کو دیکھا ہے کہ بچوں کے حقوق تلف کر رہی ہوں۔جاہل ہی ہوں گی وہ مائیں جو بچے کے منہ سے لقمہ چھین کر خود کھا جائیں۔جو بچے کا حق ہے وہ بچے کو دیتی ہیں بلکہ اپنے منہ کا لقمہ چھوڑ کر بچے کے منہ میں ڈال دیتی ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں محبت کرو، اتلاف حقوق نہ کرو۔محبت کی پہچان یہ ہوگی کہ تم کسی کے حقوق تلف نہ کرو اور حقوق نہیں تلف کرو گے تو اپنے حقوق دوسروں کو دینے کے لئے امکان پیدا ہو جائے گا۔حقوق نہ تلف کرنا محبت کا پہلا تقاضا ہے لیکن اپنے حقوق تلف کرنا محبت کا دوسرا تقاضا ہے۔پس ان دونوں پہلوؤں سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس ہدایت کو سمجھیں۔دوسروں سے محبت کریں یعنی ان کے حقوق تلف نہ کریں اور ان کی خاطر اپنے حقوق تلف کریں۔یہ تو ایک دیوانگی کی بات ہے۔انسان کسی کے حقوق تلف نہ کرے وہ تو ٹھیک ہو گیا مگر اپنے حقوق کیوں تلف کرے۔فرمایا: ” خدا کی راہ میں دیوانہ کی طرح ہو جاؤ۔یہ تب ہی ممکن ہے کہ اگر آپ اللہ کی محبت کی وجہ سے دیوانہ سے بن جائیں اور یہ بظاہر دیوانگی کی باتیں ہیں۔ماں کا بچہ سے ایک رشتہ ہے جس کے تقاضے وہ نظر انداز نہیں کر سکتی مگر آپ کا تو بنی نوع انسان سے اس قسم کا خونی رشتہ نہیں ہے اور اگر آپ عقل کریں تو وہ تقاضے نظر انداز کر سکتے ہیں۔پس جب تک دیوانوں کی طرح خدا کی راہ میں نہ ہو جاؤ یہ ماں والے رشتے تمام بنی نوع انسان سے قائم کئے ہی نہیں جاسکتے۔دیوانہ کی طرح