خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 169

خطبات طاہر جلد 17 169 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء بہت سی عدالتی کاروائیاں جو میرے علم میں آئی ہیں ، جماعت کے اندر بھی جاری ہوتی رہتی ہیں، وہ اسی مضمون کو نہ سمجھنے یا سمجھنے کے باوجود اس پر عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔فرمایا: یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کر دی اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اُس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔“ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ: 17) ایک طرف اس کا بنیادی حق بھی رکھ دیا اس کو بھی کھول دیا لیکن اگر ان باتوں کو سننے کے باوجود وہ اپنے حق استعمال کرنے پر زور دیتا ہے تو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مقصد ہے کہ اپنی وہ جماعت جو آپ کے تصور کی جماعت ہے، جو اعلیٰ درجہ کے مخلصین کی جماعت ہے، جو حقیقت میں آپ کے فرمانبردار ہیں اگر اس گروہ میں داخل ہونا چاہتا ہے تو پھر اس گروہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، حق استعمال کرتا ہے تو کرے۔”ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔“ اب خارج کرنے کا مضمون بھی غور طلب ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے افراد کو رسمی طور پر جماعت سے خارج نہیں کیا اس لئے آج کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں شخص یہ کرتا ہے اور فلاں شخص یہ کرتا ہے اور آپ نے اس کے جماعت سے خارج ہونے کا اعلان نہیں کیا۔کب ان لوگوں کے جماعت سے خارج ہونے کا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلان فرمایا تھا۔پس یہ خارج ہونا معنوی ہے۔یہ خارج کرنے کی کوئی رسمی کارروائی نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے افراد کے خلاف کوئی رسمی کاروائی نہیں کی جبکہ کثرت سے آپ کے بیانات اور ملفوظات اور تحریرات میں جماعت میں ایسے لوگوں کے رہنے کا ذکر ملتا ہے جو اس قسم کی بیہودہ حرکتیں کرتے ہیں اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دل آزاری کا موجب بنتے ہیں ان کو جماعت سے باہر کرنے کی کارروائی نہیں ہوئی۔پھر یہاں باہر کا کیا مطلب ہے۔وہی جو میں بیان کر رہا ہوں کہ عملاً خدا کے نزدیک وہ لوگ مسیح موعود کی پاک جماعت سے باہر شمار ہوں گے اور یہ بہت بڑا ایک خطرہ ہے جو اگر انسان سمجھ جائے تو لازماً اس خطرہ سے بچنے کی کوشش کرے گا اور لازم ہے کہ ایسا شخص اپنی اس زندگی میں اور اُس زندگی میں دونوں میں فلاح پا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس الحکم جلد 12 نمبر 32 مؤرخہ 10 مئی 1908 صفحہ نمبر 3 پر درج ہے۔فرماتے ہیں: