خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 166

خطبات طاہر جلد 17 166 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء اسی دنیا میں نجات کے انوار دیکھتا ہے۔سوتم کوشش کرو کہ خدا کے پیارے ہو جاؤ۔تائم ہر ایک آفت سے بچائے جاؤ۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ:82 ) جہاں تک مجھے یاد ہے اس مضمون کو بھی میں پہلے بیان کر چکا ہوں مگر پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے جو نشان ڈالا ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت غالباً نہیں پڑھی گئی مگر یہ مضمون بیان ہو چکا ہے اس لئے اس مضمون کو اس عبارت کے ساتھ دوبارہ پڑھنے کی بجائے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے بعض اور اقتباسات آج آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں: سواے دوستو اس اصول کو محکم پکڑو۔ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں۔“ یہ ایک ایسی قطعی حقیقت ہے جس کو انسان ہر روز اپنی زندگی میں اپنے نفس میں ڈوب کر معلوم کر سکتا ہے لیکن اتنی ظاہر و باہر حقیقت بھی ان کو معلوم نہیں ہے کہ جب بھی انسان اپنے طیش یا جذبات کا غلام بنتا ہے تو عقل گدلی ہو جاتی ہے اور حقیقی عقل اس وقت نصیب ہوتی ہے جب انسان اپنے جذبات اور محصوں سے نجات پاکر ان سے بالا ہو جاتا ہے۔غصوں اور جذبات سے نجات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غصہ آئے ہی نہیں یا جذبات پیدا ہی نہ ہوں۔اگر غصے اور جذبات کو انسانی معاملات میں سے نکال دیا جائے تو انسانی معاملات چلتے چلتے ٹھہر جائیں گے کیونکہ جذبات میں تمام محبتیں شامل ہیں اور غصے میں بہت سی چیزوں کے دفاع شامل ہیں۔اگر غصہ دل میں پیدا نہ ہو تو انسان کے دل میں دفاع کا خیال ہی نہیں اٹھتا۔اس لئے یہ مطلب نہ سمجھیں کہ غصے اور جذبات کو اس طرح دل سے نکال پھینکیں کہ مٹی کا مادھو بن جائیں۔نہ غصہ آئے ، نہ جذبات اٹھیں، نہ زندگی کا کاروبار چلے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کو اگر غور سے سمجھیں تو پھر آپ صحیح نتیجہ نکال سکیں گے۔جب بھی غصہ اور جذبات کے آپ تابع ہوتے ہیں اور اس وقت ایک فیصلہ کر لیتے ہیں جو ان جذبات کے تابع ہوتا ہے اس کے نتیجہ میں ، فوری فیصلہ کے نتیجہ میں ہمیشہ بے عقلی پیدا ہوتی ہے اور معاملات گدلا جاتے ہیں۔پس اصل تعلیم یہ ہے کہ جب بھی غصہ پیدا ہو یا جذبات اٹھیں تو فوری قدم سے باز رہیں۔یہی نصیحت ہے حضرت اقدس محمد صلی یتیم کی جس میں فرمایا گیا ہے کہ جب