خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 163
خطبات طاہر جلد 17 163 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء اب کل رات ہی میں اپنی بچیوں کو سمجھا رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو فرماتے ہیں تمسخر سے بات نہ کرو اور ٹھٹھے سے کام نہ لوتو یہ وہ مزاح نہیں ہے جس کو لطیف مزاح کہتے ہیں۔ٹھٹھا اور تمسخر ایک ذلیل چیز ہے جو دلوں کو دکھانے والی اور گندگیوں کو اچھالنے والی ہے اس سے ورے ورے جو مزاح کا لطیف ذوق ہے میں نے بعض عبارتوں سے ان کو دکھایا، ثابت کیا کہ اتنا لطیف ذوق جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مزاح کا تھا اس کے پاسنگ کو بھی بعض بظاہر مذاقیہ لوگ پہنچ نہیں سکتے۔ان کے مذاق میں گندگی اور سفلہ پن ہوتا ہے اور طبیعت منغض ہو جاتی ہے ان کے مذاق سے لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مزاح اور آپ کا ذوق اتنا لطیف ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اور اس مزاح کو آپ نے مد مقابل دشمن پر بھی استعمال فرمایا اور اس کا نیچا دکھانا مقصد نہیں تھا، اسلام کا اونچا دکھانا مقصد تھا۔پس بعض دفعہ مزاح میں کسی کو نیچا بھی دکھایا جاتا ہے مگر ہر گز مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس کو نیچا دکھایا جائے ، مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی برتری مانتا نہیں تو تب اس کو دکھایا جائے کہ اسلام ہی برتر ہے اور تم اس لائق نہیں ہو کہ اسلام کو نیچا دکھا سکو۔پس مرلی دھر کے ساتھ مناظرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی حربہ استعمال کیا اور ایک کہاوت کے طور پر آخری بات یہ فرمائی کہ آپ سے مناظرہ سے پہلے آپ کے متعلق بہت خیال تھا کہ آپ حکمت کی باتیں گویا سمجھیں گے اور جو کچھ میں عرض کر رہا ہوں اسلام کی خوبیاں آپ کے دماغ میں گھس جائیں گی لیکن نہیں ہو سکا۔اتنا وقت ضائع ہوا لیکن آپ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔فرمایا آپ کی مثال تو اس انسان کی سی ہے جس کو اپنے گاؤں میں بہت شہرت حاصل تھی کہ بڑا حکیم اور قابل انسان ہے، دور دور سے لوگ اس کی زیارت کو آتے تھے اور اس کی خدمت میں تحفے پیش کرتے تھے اور وہ خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔اس نے یہ جانا یعنی اس کے دل نے یہ فیصلہ کیا کہ میں خاموش ہی رہوں تو بہتر ہے کیونکہ جب میں نے لب کھولے کوئی بے وقوفی کی بات نکل جائے گی تو وہ خاموشی کے عالم میں بہت بڑا بزرگ بن گیا۔دُور دُور سے لوگ اس کی زیارت کو آنے لگے اور تحائف سے اس کے گھر بھر گئے۔آخر ایک دن اس سے صبر نہ ہوا۔اس نے کہا اے میرے پیار و عزیز و! جو دور دور سے آتے ہو، مجھے اتنی عزت دے رہے ہو، میرا بھی تو فرض ہے کہ میں کچھ بولوں اور کچھ نصیحت کروں۔سب ہمہ تن گوش ہو گئے اور جب اس نے نصیحت کے لئے لب کھولے تو پیشتر اس کے کہ وہ نصیحتیں ختم ہوتیں