خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد 17 162 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء کے فضل کے ساتھ وہ گندے انڈے پیدا ہی نہیں ہوتے جو کیٹروں سے بھر جایا کرتے ہیں۔ان کی زبان سے جو کلام نازل ہوتا ہے اس کو شیطان نے چھوا تک نہیں ہوتا۔ان کی جو اُمنگیں ہوتیں ہیں ان کو شیطان نے نہیں چھوا ہوتا۔پس اس اعلیٰ مرتبہ اور مقام کو سمجھو اور اس کی طرف سفر شروع کرو اور دن بدن تمہاری زندگی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب تر ہوتی چلی جانی چاہئے اور جب آپ اپنی منزل سے، اپنے مقام سے ہمیں دیکھتے ہیں یا دُنیا کو دیکھتے ہیں تو جو باتیں بیان فرماتے ہیں وہ ہمیں بہت مشکل دکھائی دیتی ہیں۔کئی دفعہ لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ ہم سے تو ہماری تعلیم کا ایک صفحہ نہیں پڑھا جاتا۔تھوڑا سا پڑھتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہی میں سے نہیں ہیں۔ان کو میں ہمیشہ سمجھاتا ہوں کہ آپ کا وہ مقام نہیں ہے جو مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا مقام ہے اور اپنے مقام میں رہتے ہوئے ان باتوں کی طرف سفر شروع کریں اور جب آپ سفر شروع کریں گے تو جماعت میں داخل ہو جائیں گے۔جیسے گندہ انسان بھی جب ارادہ کر لیتا ہے کہ میں نے خدا کی طرف جانا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پیاروں اور عزیزوں میں داخل کر لیتا ہے۔پس اس فقرہ سے نہ ڈریں کہ وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔بلکہ اس فقرہ سے ان معنوں میں ڈریں کہ اس جماعت میں داخل ہونے کی تمنا پیدا کریں اور جب تمنا پیدا کریں گے تو آپ کا سفر شروع ہو جائے گا، جب تمنا پیدا کریں گے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی جماعت میں اور آپ کے عزیزوں میں داخل ہو جائیں گے۔فرمایا: تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے۔اور آسمان پر تم دنیا کے لئے ایک مفید چیز سمجھے ،، جاؤ گے اور تمہاری عمریں بڑھائی جائیں گی۔“ اب یہ جو ذکر ہے کہ آفات نہیں چھوتیں یا بیماریاں نہیں چھوتیں، یہ امر واقعہ ہے کہ وہ نیک بندے جو خدا کی خدمت میں مصروف ہوں اُن کی اور اُن کے اہل و عیال کی عمریں بڑھائی جاتی ہیں تا کہ خدا کے دین کو ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔تمسخر سے بات نہ کرو۔اور ٹھٹھے سے کام نہ لو۔اور چاہئے کہ سفلہ پن اور او باش پن کا تمہارے کلام پر کچھ رنگ نہ ہو۔“ نیم دعوت ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ :365)