خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 156

خطبات طاہر جلد 17 156 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء کر چکا ہوں۔آخری شرط نہیں کہ جب تک تم صدیق نہیں بنو گے اس وقت تک خدا تمہاری پر واہ نہیں کرے گا ، اللہ کے نزدیک تمہارا مواد سچا ہو، تمہارے دل کی گہرائی میں سچائی موجود ہو اگر یہ ہو گا توکسی کی مخالفت تمہیں تکلیف نہ دے گی۔پر اگر تم اپنی حالتوں کو درست نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے فرمانبرداری کا ایک سچا عہد نہ باندھو، تو پھر اللہ تعالیٰ کو کسی کی پرواہ نہیں۔ہزاروں بھیڑیں اور بکریاں ( ہر ) روز ذبح ہوتی ہیں پر اُن پر کوئی رحم نہیں کرتا اور اگر ایک آدمی مارا جاوے تو اتنی باز پرس ہوتی ہے۔“ اب ساری دُنیا میں یہی ہو رہا ہے لیکن بدنصیبی سے اب بھیٹروں اور بکریوں کے ذبح ہونے کا مضمون بہت آگے بڑھ چکا ہے۔آج کا زمانہ ایسا ہے کہ انسان بھیڑوں بکریوں کی طرح ذبح ہو رہا ہے اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔تو یہ حالت جو سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے یہ اس وقت کی حالت ہے جب انسانوں میں کچھ نیکی موجود تھی، کچھ بھلائی تھی لیکن اب تو معاملہ حد سے آگے گزر چکا ہے۔پانی سر سے اوپر نکل گیا ہے۔یہ یادرکھیں کہ اگر ہم ابتداء میں اپنی نیکیوں کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں کریں گے اور بدیوں کی پرواہ نہیں کریں گے تو اس طرح یہ بدیوں کا سیلاب آگے بڑھتا ہوا ہماری حد سے آگے نکل جائے گا اس کو سمجھانا اس لئے ضروری ہے کہ دُنیا کی اصلاح ہمارے سپر دفرمائی گئی ہے۔اب جو ہم دُنیا کی حالت دیکھ رہے ہیں وہ بہت زیادہ خطرناک ہے اس وقت سے جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ تحریر لکھی۔اب بعض دفعہ یہ تو ہوتا ہے کہ ایک بھیڑ کے ذبح ہونے پر لوگوں کو فکر ہوتی ہے کہ اچھی بھیڑ تھی اس کو کیوں ذبح کر دیا گیا لیکن انسانوں کے ذبح ہونے پر کوئی فکر نہیں۔ساری دُنیا میں لاکھوں کروڑوں انسان ہیں جو ناحق مارے جارہے ہیں اور انسان کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے تو وہ خدا اُن کی پرواہ کیسے کرے گا جو خدا کے بندوں کی پرواہ نہیں کرتے۔پس خدا کے ان سب بندوں کی جو ساری دُنیا میں پھیلے پڑے ہیں، پرواہ کرنے کا مضمون آپ کو سمجھ آنا چاہئے۔اگر آپ آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنے گردو پیش نظر نہیں ڈال رہے، آپ نہیں پہچان رہے کہ ان خدا کے بندوں پر کیا کیا ظلم ہورہے ہیں تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خوشخبریاں عطا فرمائی ہیں وہ آپ کو نصیب نہیں ہوں گی اور لازم ہے کہ ہم ضرور سمجھیں اس مضمون کو ، کیونکہ ہمارے سوا اور کوئی نہیں ہے جس نے اس دُنیا کی تقدیر بدلنی ہے اگر ہم نہیں سمجھیں