خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 148
خطبات طاہر جلد 17 148 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء ورحمة اور ہدایت کا سامان ہے اور رحمت ہے لیکن اس قوم کے لئے جو یوقِنُونَ وہ یقین رکھتے ہیں ان باتوں پر اور قرآن کریم کو اس کامل یقین کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ ان کے اندروہ سب باتیں موجود ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئاتِ کیا وہ لوگ جنہوں نے بُرے عمل کئے ، طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہوئے یہ گمان کر لیا کہ آنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے یا ان سے ان لوگوں جیسا سلوک کریں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے ، اس طرح ان سے سلوک کریں گے گویا کہ سَوَاء مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ کہ برائیاں کرنے والوں کی زندگی اور موت اور ان کی یہ زندگی اور موت ایک ہی جیسی ہو جائے گی۔یہ نہیں ہوسکتا، ناممکن ہے۔جو ایمان لانے والے ہیں ان کے ساتھ خدا اس دُنیا میں ایک ایسا امتیازی سلوک کرے گا اور ہمیشہ جاری رکھے گا کہ وہ جو برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں ان سے اس زندگی میں ہی خدا تعالیٰ کا سلوک ایک امتیاز کر کے دکھا دے گا اور بتا دے گا کہ یہ میرے بندے ہیں اور یہ وہ دوسرے بندے ہیں۔سَاءَ مَا يَحْكُمُون کتنے برے فیصلے ہیں جو وہ کر بیٹھے ہیں یا کرتے ہیں کہ ان کے حق میں ہی وہ فیصلے الٹتے ہیں اور ان کو ہر کامیابی سے محروم کر دیتے ہیں۔سَاءَ مَا يَحْكُمُون میں اور بھی بہت سے مضامین ہیں اُن کے حکم کے نتیجہ میں ، ان کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں جو فسادات برپا ہوتے ہیں، جو مذہب کی دُنیا میں اور مادی دنیا میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو محض ان کے اس حکم کی وجہ سے ہے جو بیان کیا گیا ہے ان سب تفاصیل کو میں یہاں بیان کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن اشارہ کر دیا ہے کہ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ میں اوّل تو اُن کا فیصلہ اُن کے اپنے خلاف پڑے گا اس بات کا اشارہ ہے اور دوسرا اُن کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں ساری دُنیا میں جو فساد برپا ہوتے ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور حق کے ساتھ فساد پل نہیں سکتا، اس کے ساتھ رہ نہیں سکتا۔ان دونوں کا کوئی ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے تو کیسے ممکن ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو تو حق کے ساتھ پیدا کیا ہو اور اس میں تم کوئی رخنہ کوئی فساد نہ دیکھوگر مذہب کی دُنیا میں خدا تعالیٰ نیکوں کو بدوں کے ساتھ اس طرح ملا جلا دے کہ گویا وہ دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔حق کے ساتھ باطل نہیں رہ سکتا، باطل کے ساتھ حق نہیں رہ سکتا۔یہ اعلان ہے جو ان آیات کا ایک طبعی