خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 149

خطبات طاہر جلد 17 149 خطبہ جمعہ 6 مارچ1998ء تقاضا تھا جو اس سے پہلے گزری ہیں۔وَلِتُجرى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر جان کو اس کے اس عمل کا بدلہ دیا جائے جو اس نے خود کما یا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے کیونکہ ظلم بھی حق کے ساتھ اکٹھا چل نہیں سکتا۔تو عدل در اصل حق ہی کا بچہ ہے۔پس قرآن کریم نے ان آیات میں بہت گہرے اور وسیع مضامین بیان فرمائے ہیں جن کی تفسیر کا اس وقت موقع نہیں مگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان امور پر جو روشنی ڈالی ہے وہ جماعت کی تربیت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔پس میں اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام پڑھنا شروع کرتا ہوں۔ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کر لو اور اس کی اطاعت میں واپس آجاؤ۔اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہورہا ہے اور اُس سے بچنے والے وہی ہیں جو کامل طور پر اپنے سارے گناہوں سے تو بہ کر کے اُس کے حضور میں آتے ہیں۔“ الحکم جلد 2 نمبر 12، 13، صفحہ: 10 مؤرخہ 20و27 مئی 1898ء) پس یہ وہ لوگ جو برائیوں میں مبتلا ہیں اور وہ لوگ جو کلیہ ان سے کنارہ کشی کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں کنارہ کشی کرنے والے لوگ، جن کے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر تم یہ بننا چاہتے ہو تو پہلی صفت تو یہ ہے کہ اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دو۔اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کر لو۔یہ اللہ تعالیٰ سے صلح کا تقاضا ہے کہ اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دو۔ویسے بظاہر تو ان دونوں کا جوڑ نظر نہیں آتا کہ اگر تم یہ گروہ بنا چاہتے ہو تو اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دو مگر اگر اللہ یہ چاہتا ہو کہ تم ساری دُنیا کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دو تو جب تک بھائی سے اس سفر کا آغاز نہیں ہوگا یہ سفر جاری ہو ہی نہیں سکتا۔پس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام بہت ہی گہرا ہے اور اس کے عرفان کو سمجھنے کے لئے یہ مقامات ہیں جہاں دو فقرے بظاہر بے جوڑ دکھائی دیتے ہیں اور لوگ اسی طرح بغیر ان کو حل کئے آگے گزر جاتے ہیں حالانکہ وہ مقامات ہیں جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عرفان کو گہرائی میں اتر کر سمجھا جا سکتا ہے۔پس یہ مراد ہے کہ تم تو دنیا میں اللہ کی خاطر اس لئے نکالے گئے ہو کہ سب دُنیا کے آرام کی خاطر اپنے آرام کو خطرہ میں