خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 4

خطبات طاہر جلد 17 4 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء آخرت پر یقین رکھتے تھے۔آپ ملی ایام کے لئے کوئی پکڑ یہاں ہو یا وہاں ہو محض ایک رسمی فاصلہ تھا ور نہ امر واقعہ یہی ہے کہ آپ مالی پی ایم کے نزدیک تو اس دُنیا اور اُس دُنیا میں فرق ہی کوئی نہیں تھا اور جب یقین ہو تو پھر دشمنوں کی تعلی ان کی ہنسیاں سب بے کار، بے معنی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الأمور آخر سب باتوں نے اس کی طرف لوٹنا ہے اس میں گھبراہٹ کی کیا ضرورت ہے۔یہ کامل تو کل ہے جو میں جماعت سے چاہتا ہوں اور ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ میری جان اسی توکل پہ جائے ایک ذرہ بھی خدا سے کسی قسم کا کوئی شکوہ دل میں نہیں پیدا ہونا چاہئے۔بیماریاں ہوں مصیبتیں ہوں ، دشمن کی تعلیاں ہوں یا دشمن سے قطع نظر زندگی کے مسائل ہوں اگر یہ دین آپ کا دین ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے تو پھر آپ ہمیشہ تسکین کے سانس لیں گے اور مرتے وقت بھی آپ کو ایک ایسی قلبمی تسکین حاصل ہو گی جو کسی اور کو نصیب نہیں ہو سکتی۔اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُولِجُ اليْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارِ فِي الَّيْلِ تم دیکھتے نہیں کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔اس میں دن کو رات میں داخل کرنا ایک خاص معنی رکھتا ہے۔يُولِجُ اليْلَ فِي النَّهَارِ یہ ایک ایسے دن کی طرف اشارہ ہے جو مومنوں کا دن کبھی آکے واپس نہیں جایا کرتا۔عام طور پر اچھی بات قرآن کریم میں پہلے بیان کی جاتی ہے اور کچھ برائی کی خبر بعد میں بیان کی جاتی ہے لیکن جہاں اس ترتیب کو بدل دیا جائے وہاں لازماً گہری حکمت ہوا کرتی ہے اور یہاں یہ حکمت پیش نظر ہے کہ مومنوں کی رات میں مومنوں کا دن داخل ہو جائے گا اور جب ہوگا تو پھر دوبارہ وہ رات میں تبدیل نہیں کیا جائے گا۔وہ ہمیشگی کا دن ہے جو ان پر طلوع ہوگا اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس مضمون کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں گے اور اس کے بعد پھر ساری باتیں اللہ پر ہیں۔تمام تر توکل اللہ پر ہے۔کچھ بھی جھگڑا باقی نہیں رہتا، کوئی مخمصہ باقی نہیں رہتا۔یہ ایک تقدیر الہی ہے جس میں کبھی کوئی تبدیلی آپ نہیں دیکھیں گے۔تاخیر ہو جایا کرتی ہے، دیر تو ہوتی ہے مگر اندھیر نہیں۔خدا کا دن لازماً بڑے مضبوط قدموں سے آگے بڑھا کرتا ہے اور جب ایک دفعہ دن پھیلنا شروع ہو جائے تو اس کی روشنی کی راہ میں کوئی دُنیا کا اندھیرا حائل نہیں ہوا کرتا۔وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُور اور وہ دلوں کے حال کو جانتا ہے۔جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ پر اس قسم کا توکل نہ رکھیں جس کی تفصیل ان آیات نے بیان فرمائی ہے تو وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال