خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد 17 144 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء اس قسم کا آدمی ہے اور اس کے متعلق جھوٹی باتیں بھی بیان کرتے ہیں اور جھوٹی مثالیں بھی بیان کرتے ہیں اور اس معاملہ میں بڑے شہرت یافتہ ہوتے ہیں کہ بڑا مزاحیہ آدمی ہے اس نے فلاں کے گنج کا ایسا مذاق اڑایا، فلاں کی غربت کا ایسا مذاق اڑایا، فلاں کی لاعلمی کا ایسا مذاق اڑایا۔یہ لوگ ہیں جو ہنرل اور تمسخر کی حد میں آتے ہیں اور بعض لوگوں کی ساری زندگی ہنرل اور تمسخر کے گھیرے کے اندر صرف ہوتی ہے۔اگر وہ میری بات سن رہے ہیں تو جب بھی وہ لطیفہ گوئی کریں اس پر غور کر کے دیکھیں کہ لطیفہ کا آغاز دل کے اندر کس حصہ میں اپنی جڑیں رکھتا ہے۔اگر وہ ان کی کسی قسم کی بڑائی اور برتری اور اپنے بھائی کی تذلیل کے اس دائرے میں پیوند ہے ، اس دائرے میں دبا ہوا ہے جو دل میں موجود ہوتے ہیں، مختلف دل کے دائرے ہیں کچھ یہاں، کچھ وہاں، کہیں تکبر ہے کہیں نیکی کے آثار بھی ہیں تو اس لئے میں آپ کو تفصیل سے سمجھا رہا ہوں کہ اگر تمسخر کے وقت آپ غور کر کے دیکھیں تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ اس تمسخر کی جڑیں آپ کے دل میں کہاں واقع ہیں۔وہاں اگر نیکی اور بھلائی ہو، اگر محض لطافت ہو ، اپنے ماحول کو خوشگوار بنانا مقصود ہو اور کسی اور کی برائی مقصود نہ ہوتو یہ ہرگز ہنرل اور تمسخر نہیں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کو اجازت نہیں دیتے۔فرماتے ہیں تمسخر کی اب تعریف دیکھ لیں۔تمسخر میں جھوٹ کا عنصر شامل ہوتا ہے۔لازم ہے کہ کچھ نہ کچھ جھوٹ تمسخر میں ضرور شامل ہو اس لئے انبیاء کے ساتھ غیر سوسائٹی کا جو سلوک ہے اس کو قرآن کریم نے تمسخر کے رنگ میں بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں، اب تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ کیونکہ تمسخر جس کو معمولی سمجھا گیا اگر اس میں جھوٹ کا عنصر شامل ہے تو یہ پودا اکھیڑا جائے گا اور شجرہ خبیثہ کی طرح ادھر ادھر تمام دنیا میں یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہے گا اور اس کی زندگی کا پانی سوکھ جائے گا۔ہواؤں کے ذریعہ اس طرف سے ادھر لے جائے جانے والے پودے میں رفتہ رفتہ کوئی جان بھی باقی نہیں رہے گی اور یہ وہ باتیں ہیں جو آپ میں سے ہر ایک کو سمجھنی ہیں، لازماً سمجھنی ہیں اور لازماً سمجھ سکتے ہیں۔موٹی معمولی عقل کا انسان بھی ان باتوں کو سمجھ سکتا ہے کہ جب بھی اس کی طبیعت مذاق کی طرف مائل ہو اپنے دل کو ٹولے اور دیکھے کہ یہ مذاق دل کے کس حصہ میں پیوستہ ہے۔وہ دل کا Soil یعنی وہ سرزمین دل کی جہاں یہ پیوستہ ہے وہ اگر پاک اور صاف ہے اور اس میں گندے پورے کے اُگنے کی گنجائش نہیں ہے تو پھر آپ فائز ہیں۔آپ وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ