خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 3

خطبات طاہر جلد 17 3 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء تو ایسے نکات جو لکھنا چاہیں وہ بے شک لکھیں ان کو روک نہیں ہے اور سختی کے ساتھ مناہی بھی نہیں ہے مگر صورت حال میں نے آپ کے سامنے رکھ دی ہے اس کے بعد امید ہے کہ جہاں تک ممکن ہوگا آپ اپنے جذبات کو قابو میں لا کر اس موضوع پہ میری دلداری نہیں کریں گے، کریں گے تو دعاؤں میں کریں گے اس سے زیادہ نہیں۔رمضان اور سالِ نو کی مبارکبادوں کا بھی یہی حال ہے۔فیکسز اور پیغامات بھیجنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہر ایک کو جواب دینا ہر گز ممکن نہیں رہا۔اس لئے یہ بھی آپ یقین کریں کہ ان سب کے لئے میرے دل میں جذبات امتنان ہیں ان کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن اب اس سلسلہ کو بھی بند ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک رسم تو ہے اور رسم ہی تو ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔سال نو کی مبارکبادوں میں ہم جہاں تک ہو سکتا ہے تکلفات سے اجتناب کرتے ہیں لیکن مبارکباد کی بات تو منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔یہ گناہ نہیں لیکن ہے پھر بھی تکلف ہی۔اس لئے سال نو کے آغاز پر میرے لئے بھی دعا ئیں کریں، اپنے لئے بھی دعا ئیں کریں، جماعت کے لئے بھی دعائیں کریں، یہ سال نو کا بہترین آغاز ہوگا۔اب میں ان آیات سے متعلق کچھ عرض کرتا ہوں جو وقف جدید کا خطبہ دینے سے پہلے میں نے تلاوت کی ہیں۔لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ یہ ایک اعلان عام ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔کوئی اس بادشاہی میں اس کا شریک نہیں۔اس حقیقت کا دل میں گڑ جانا یہی توحید ہے۔وَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الأمور نہ صرف یہ کہ بادشاہی ہے بلکہ تمام امور ، تمام اہم باتیں اسی طرف لوٹائی جائیں گی۔پس اس سے مفر نہیں۔خدا تعالیٰ کی بادشاہی کوئی دُنیا کی بادشاہی نہیں جس سے آپ بھاگ کر کہیں منہ چھپا سکیں۔دُنیا میں بھی کوئی مفر نہیں، آسمانوں میں بھی کوئی مفر نہیں اور اگر ہوتا بھی تو آخر اسی کی طرف لوٹنا ہے۔پس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر ظاہر ہونے میں بعض دفعہ دیر بھی ہو جاتی ہے لیکن آنحضرت صلی یہ تم کو اللہ تعالی نے مخاطب کر کے یقین دلایا تھا کہ دیکھ تیرے مخالفین کی پکڑ اگر یہاں نہ بھی ہوگی تو تو جانتا ہے کہ آخر ضرور ہوگی۔آنحضرت صلی لا الہ تم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمانا دراصل ایک گہری حکمت ہم سب کے لئے رکھتا ہے۔آنحضور صلی اسلم کی اس پر پوری تسلی ہو گئی تھی۔ایک ذرہ بھی قلق باقی نہیں رہا کیونکہ آپ صلی لیستم