خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 2
خطبات طاہر جلد 17 2 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء خصوصیت سے یا درکھنا چاہئے کہ ان کی سب روکیں خدا نے خاک کی طرح اڑا دی ہیں۔آسمان سے جو فضل نازل ہو رہے ہیں ان کی راہ میں ان کی طرف سے کوئی چھتریاں، کوئی روکیں حائل نہیں ہوسکتیں۔وہ فضل نازل ہوتے چلے جائیں گے اور یہ حسرتوں سے دیکھتے چلے جائیں گے۔اگر یہ حقیقت بھی ان کو سمجھ نہیں آ رہی تو پھر کیا حقیقت سمجھ آئے گی۔اپنی آنکھوں کے سامنے آسمان سے فضلوں کی بارش ہوتی دیکھ رہے ہیں اور شور مچارہے ہیں کہ ہم مباہلہ جیت گئے۔خاک جیتے ہو تم۔وہ قصے میں بعد میں بتاؤں گا کہ کیا جیتے ہیں اور کیسے جیتے ہیں مگر یہاں ضمناً صرف آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ اس وعدہ میں بھی خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کریں، اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔دوسری چیز جو ضمناً کہنی چاہتا ہوں وہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات سے متعلق ملنے والے تعزیت کے پیغام، خطوط اور لوگوں کا یہاں تشریف لانا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جتنے بھی خطوط آتے ہیں مجھے لازماً پڑھنے پڑتے ہیں اور روزان کا اتنا بڑا پلندا بن جاتا ہے کہ اب رمضان کی مصروفیت کی وجہ سے میرے لئے ممکن نہیں رہا کہ سرسری نظر سے بھی ان کو پڑھوں اور جانتا ہوں جنہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ان سب کے متعلق جانتا ہوں جو ان میں سے بہت آگے ہیں ان کو بھی اور جوذ را پیچھے ہیں ان کو بھی۔حقیقت یہ ہے کہ اس خطبہ کے بعد جو میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے روحانی مدارج کے متعلق دیا تھا اکثر یہی اظہار ہورہا ہے کہ ہمیں پہلی دفعہ پتا چلا ہے کہ آپ کیا چیز تھے۔مگر پہلی دفعہ چلا یا بعد میں پتا چلا یہ بحث الگ ہے۔ساری دُنیا کی جماعت ان کے لئے دعا گو ہے اور ان کے اقرباء کے لئے دعا گو ہے اور اس حقیقت سے میں باخبر ہوں۔پس جواب کا تو ویسے ہی سوال نہیں کہ میں سب کو جواب لکھ کے دوں۔ان سب کا میں شکر یہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے آج تک کثرت سے خطوط لکھے اور بعض یہاں بھی تشریف لائے مگر اب میں ان سے عاجزانہ درخواست کر رہا ہوں کہ یہ سمجھ لیں کہ مجھے علم ہے اور میری دعاؤں میں وہ سب بزرگ شامل ہیں۔بڑے ہوں یا چھوٹے ، مرد ہوں یا عورتیں ، چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے اللہ تعالی ساری جماعت کو بہترین جزا عطا فرمائے۔ہاں اگر کوئی خاص نکتہ کسی نے لکھنا ہو مثلاً بعض خطوں میں صاحبزادہ صاحب مرحوم کے متعلق بڑے اچھے نکات بیان کئے جاتے ہیں جن کی طرف پہلے میری توجہ یا نہیں گئی ہوتی یا ضرورت ہوتی ہے کہ اس توجہ کو بیدار کیا جائے۔