خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 122

خطبات طاہر جلد 17 122 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء اگر ایسا کرے اور واقعہ خدا کی خاطر کرے تو محض یہ عقل نہیں ہے بلکہ عقل آخری نتیجہ کے لحاظ سے عقل ہے۔عقل کا نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ آپ کو خدا تعالیٰ ٹھوکر سے بچائے اور آپ کے مفاد کے لئے غیب سے انتظام کرے۔جس کو یہ عقل حاصل ہو جائے کہ ہر فعل میں اور ہر فیصلہ میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور کسی فیصلہ میں کوئی نقصان نہیں ہے یہ وہ شخص ہے جس کو یہ یاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تمہاری ہر قربانی پر نظر رکھی جائے گی۔یہ عارضی دنیا گزرگئی تو تمہارا کوئی بھی نیک اقدام ضائع نہیں کیا جائے گا لیکن اس کے علاوہ ایک اور خدا کا سلوک ہوتا ہے جو غیر معمولی طور پر ، خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرتے ہیں ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” اور فرشتہ سامنے کھڑا ہو کر اُس کی مدد کرتا ہے۔یہ جو فرشتے ہیں، جو سامنے کھڑا ہوکر ان کی مدد کرتے ہیں یہ بھی صاحب تجربہ کو پتا ہے کہ ایک معاملہ میں جب کوئی سہارا نہیں رہتا اچانک ایک آدمی نمودار ہو جاتا ہے۔ہوتا تو انسان ہے مگر وہ سامنے کھڑا ہو کر مدد کر رہا ہے اور آپ کو پتا نہیں کہ کیوں کر رہا ہے۔کیا وجہ ہوگئی اور یہ واقعات بکثرت احمد یوں کے تجربہ میں ہیں، یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔اگر آپ سمجھتے ہوں کہ فرشتہ واقعہ متمثل ہو کر سامنے اترتا ہے تو یہ حقیقت آپ کے لئے ایک خواب بنی رہے گی اور آپ کہیں گے ہم بھلا کہاں ایسی طاقت رکھتے ہیں۔ہم میں کہاں ایسی ولایت اور بڑائی آگئی کہ خدا کی خاطر کوئی فرشتہ اترے اور سامنے کھڑے ہو کر مدد کرے لیکن میری ساری زندگی کا تجربہ ہے اور ہزاروں احمدی ہیں جنہوں نے اپنے تجربوں سے مجھے مطلع کیا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ ایک بات بالکل ناممکن دکھائی دیتی تھی ایک آدمی ظاہر ہوا ہے اور وہ مدد کر رہا ہے اور کچھ پتا نہیں کہ کیوں مدد کر رہا ہے۔وہ غیب سے آتا ہے اور ایسے آدمیوں کا نام اللہ تعالیٰ نے وہ فرشتہ رکھا ہے جس کو مدد کے لئے فرمان ملتا ہے یعنی اس کو پتا بھی نہیں کہ یہ فرمان ہورہا ہے لیکن مدد کے لئے اس کو استعمال کیا جاتا ہے اور ہر ایسا شخص جو ناممکن حالت میں کسی کو اپنی مدد کرتے ہوئے دیکھے تو اس کو یقین کر لینا چاہئے کہ فرشتوں کی مدد اس طرح آیا کرتی ہے۔66 دد مگر فاسقانہ زندگی والے کے دماغ میں روشنی نہیں آسکتی۔“ جو شخص بھی گندی زندگی بسر کرتا ہے خدا سے دوری کی زندگی بسر کرتا ہے اس کے دماغ کو آپ روشن نہیں دیکھیں گے۔