خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 121

خطبات طاہر جلد 17 121 خطبہ جمعہ 20 فروری 1998ء ہے وہاں نازک سے مراد یہ ہے Critical جیسے انگریزی میں کہتے ہیں یعنی پاؤں رپٹا تو بعید نہیں کہ آپ جہنم میں جا پڑیں۔اس لئے اس نصیحت کو پہلے سے باندھ لو اور ہر ایسے موقع پر جبکہ تمہاری روح تمہیں تیزی دکھاتی محسوس ہو غور کرو کہ یہ تیزی کہاں سے آئی ہے، عقل اس کے بغیر نصیب ہوہی نہیں سکتی۔لوگوں کا خیال ہے کہ اس صفت کے بغیر حقیقت میں انسان عقل حاصل کر سکتا ہے۔ساری دنیا خدا سے دوری کے نتیجہ میں بے عقل ہے اور بظاہر بڑے بڑے عاقل موجود ہیں، بڑی بڑی عقل والی قومیں موجود ہیں لیکن جو فیصلہ کے مواقع ہیں ان میں ہمیشہ وہ فیصلہ بظاہر اپنے حق میں کر رہے ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لے کر جہنم کی راہ اختیار کر رہے ہوتے ہیں۔اس لئے مغربی قوموں کی ظاہری بڑائی سے ہرگز متاثر نہ ہوں۔ان کی اچھی چیزیں ضرور سیکھیں لیکن آج ساری دُنیا کی قیادت بدنصیبی سے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو اپنے دل کی حرارت ٹٹول کر دیکھنے کا موقع ہی نصیب نہیں ہوتا، جن کا ہرا ہم فیصلہ خدا کے تعلق سے عاری ہوا کرتا ہے۔ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں آتا کہ یہ فیصلہ آیا خدا کی رضا کو حاصل کرنے والا ہے یا خدا کے غضب کو حاصل کرنے والا ہے۔یہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں بیان فرماتے ہیں : یا درکھو کہ عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے۔“ کتنے ہیں جو اس مضمون کو جانتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں عقل دماغ کی تیزی سے پیدا ہوتی ہے، شوخی سے پیدا ہوتی ہے، لمبے علم اور لمبے تجربہ سے پیدا ہوتی ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔بڑے بڑے صاحب علم، بڑے بڑے صاحب دماغ، بڑے بڑے تعلیم یافتہ جب بھی فیصلہ کرتے ہیں وہ خدا کی رضا سے الگ ہو کر اسے بے ضرورت سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔پس ان کی عقل کا روح کی صفائی سے کوئی تعلق نہیں اس لئے وہ عقل سے عاری ہیں۔فرمایا: یا درکھو کہ عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے۔جس قدر انسان روح کی صفائی کرتا ہے اُسی قدر عقل میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور فرشتہ سامنے کھڑا ہوکر اس کی مددکرتا ہے۔“ یہ بھی ایک بہت عظیم الشان مضمون ہے۔انسان جو روح کی صفائی کے نتیجہ میں عقل حاصل کرتا ہے اس عقل کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ خدا کی خاطر اس فیصلہ کو رڈ کر دے جو بظاہر دُنیا میں اس کے حق میں ہونا چاہئے اور اس فیصلہ کو خدا کی خاطر قبول کرلے جو ظاہر و باہر طور پر اس کے فوری مفاد کے خلاف ہو۔