خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد 17 120 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء بہت پیاری نصیحت ، بہت ہی گہری، ہر انسان جانتا ہے کہ کس کس معاملہ میں اس میں گرمی پائی جاتی ہے اور وہ گرمی اللہ تعالیٰ کے معاملات سے تعلق رکھتی ہے۔بعض لوگوں کی جو گرمی ہے اگر وہ غور کریں تو ان کو بتا دے گی کہ یہ دُنیا داری تھی خدا کی محبت نہیں تھی۔پس دُنیا داری کی گرمی بعض دفعہ اپنی اولاد کی نصیحت کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے، اولاد پر سختی کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے مگر اس وقت جب وہ دُنیا سے دور ہٹ رہے ہوں یا دُنیا کی کمائی سے پیچھے ہٹ رہے ہوں۔جن لوگوں کے دل میں اس وقت سختی پیدا ہوتی ہے وہ گرمی ہے لیکن وہ اگر غور کر کے دیکھیں تو ان کو معلوم ہوگا کہ ان کی گرمی محض اللہ سے دوری کی وجہ سے تھی اور دُنیا سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے تھی۔پس فرما یا ٹھہرو اور غور کرو، اپنے دل کو ٹولو کہ یہ حرارت کسی چشمہ سے نکلی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کے چشمہ سے نکلی ہے تو پھر یہ گرمی اور نمونے کی گرمی ہوگی اور یہ گرمی آگ سے بچانے والی گرمی ہے اور وہ دوسری گرمی آگ میں ڈالنے والی گرمی ہے۔پس اس ایک فقرہ پر ہی آپ غور کریں اور دل کو ہر ایسے موقع پر ٹولیں۔جب آپ کے اندر گرمی پیدا ہوتی ہے تو بسا اوقات آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو اپنے نفس کے کچلے جانے سے غصہ آیا ہے یعنی وضاحت کو چھوڑ کر دوسرے معاملات کی بات اب میں کر رہا ہوں۔کسی بات میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس گرمی کا تعلق لازماً اپنے نفس کے کچلے جانے سے ہوتا ہے جو خدا کی نظر میں مغضوب گرمی ہے جو خدا کو غضب دلانے والی گرمی ہے اس کا اللہ کی خاطر، اللہ کی رضا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔پس اپنے دل کو ٹولو میں جو نصیحت ہے وہ ایسی عظیم نصیحت ہے کہ آپ اگر ٹولیں نہ تو آپ کو پتا بھی نہیں لگ سکتا کہ دل کو ٹولنا ہوتا کیا ہے۔جہاں گرمی پیدا ہو وہاں ٹٹولیں اور بعض دفعہ راکھ کے نیچے چنگارے اور کو کلے دکھائی دیتے ہیں یعنی بظاہر ایک راکھ نے ان کو چھپایا ہوا ہے مگر آپ جب ٹٹولیں گے تو پتا چلے گا کہ اندر در اصل شیطانی گرمی تھی جو ایک موقع پر سراٹھا کر باہر نکلی ہے۔چنانچہ فرمایا: یہ مقام بہت نازک ہے۔“ (البدر جلد 11 نمبر 8، 9صفحہ:3 مؤرخہ 30 نومبر 1911ء) یہ نازک لفظ پر جو بات ختم کی ہے یہ اپنی ذات میں ایک الگ اہمیت رکھتی ہے۔اگر تم سمجھتے ہو کہ نہ بھی ٹولوں تو کیا فرق پڑتا ہے، زندگی گزر رہی ہے۔فرمایا ” یہ مقام نازک ہے۔اگر تم نے غفلت کی تو یہ غفلت تمہیں آگ کا ایندھن بنا سکتی ہے اور ہر وہ بات جو نازک ہو اس تعلق میں جس میں بیان کیا جارہا