خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد 17 119 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء والے ہیں۔ان سے علیحدگی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ کو ان سے محبت کا رشتہ نہیں رہا۔علیحدگی کی وجہ یہ ہے کہ جو اولا دگھر میں موجود ہے یا آپ خود میاں بیوی بھی اپنے نفس کا حق تو ادا کریں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی ایسے شخص سے محبت کا تعلق اس طرح رکھا جائے کہ اس کا زہر آپ کے اندر داخل ہو جائے۔بعض لوگ کتوں سے بھی پیار کرتے ہیں مگر بیچ کر رہتے ہیں کہ ان کا زہر آپ کے اوپر نہ اگلا جائے، ان کے دانت آپ کو زخمی نہ کر دیں۔پس یہاں یہ معاملہ ہے جو احتیاط کا معاملہ ہے اور لوگ سمجھتے نہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ ایسے لوگوں کے اثر سے سارا خاندان گندہ ہوجاتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ جماعت سے کٹ کے الگ ہو جاتا ہے۔کاٹا نہ بھی جائے تو خود کٹ جاتا ہے۔ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں یہاں بھی ہیں ، امریکہ میں بھی ہیں ، پاکستان میں جگہ جگہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور رفتہ رفتہ میں نے ہمیشہ ان خاندانوں کو زندگی کے سرچشمہ سے کٹ کرموت کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے جو شیطانی موت ہے اور اس کے بعد پھر کوئی روحانی زندگی نہیں۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان اقتباسات کو گہری نظر سے دیکھیں گے اور غور سے سنیں گے اور دل نشین کریں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہتر نصیحت کرنے والا رسول اللہ صلی ا ستم کے بعد کبھی پیدا نہیں ہوا۔ایک ذرہ بھی اس میں شک نہیں ہے۔چند کلمات ایسے ہیں جیسے کیمیا گر ہو کوئی ، وہ مٹی سے سونا بنادے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلمات کو غور سے دیکھیں اور ان کلمات میں سب سے بڑی اہمیت تحریروں کو نہیں جتنی زبانی کلام کو ہے جو نصیحت کے طور پر آپ نے مجلس میں کیا یا باہر کیا۔ان کو ملفوظات کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔اگر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچی ، گہری شخصیت کو پہچانا ہو تو مناظرہ والی تحریروں سے الگ ملفوظات کو دیکھیں تو ملفوظات کی ایک ہی جلد ساری زندگی کو پاک صاف کرنے کے لئے کافی ہے بلکہ ملفوظات میں سے بعض سطریں ایسی ہیں جو ساری زندگی پر حاوی ہوسکتی ہیں۔ایک انسان اس کو غور سے پڑھے اور ان کا گہری نظر سے اور محبت سے مطالعہ کرے۔اگر ایک آدمی گندہ ہوتا ہے، تو وہ سب کو گندہ کر دیتا ہے۔اگر حرارت کی طرف تمہاری طبیعت کا میلان ہو تو پھر اپنے دل کو ٹولو کہ یہ حرارت کسی چشمہ سے نکلی ہے۔“