خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 114

خطبات طاہر جلد 17 114 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء 66 ” یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اُس کے اندر سکونت اختیار کرتا ہے۔“ ایمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی سکونت پر منتج ہوتا ہے۔آپ کو دُنیا میں جس چیز پر ایمان ہے اس کا تصور آپ کے اندر سکونت پذیر ہے اور وہ تصور آپ سے الگ کبھی نہیں ہوتا۔جس چیز پر ایمان ہی نہیں ہے اس کا تصور آپ کے اندر سکونت پذیر نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایمان کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو دور کا واہمہ ہو۔اللہ پر سچا ایمان ہو تو اللہ آپ کی ذات میں سکونت پذیر ہوجاتا ہے۔فرمایا اور شیطانی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور گناہ کی فطرت مرجاتی ہے۔یہ ہے ایمان کی نشانی۔پس اگر تر بد کی نشانی ہے یا بنفشہ کی نشانی ہے یا اور چیزوں کی نشانی ہے تو ایمان کی بھی تو ایک نشانی ہونی چاہئے اور ایمان کی یہ اصل نشانی ہے۔اور گناہ کی فطرت مرجاتی ہے۔اس وقت ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے اور وہ روحانی زندگی ہوتی ہے یا یہ کہو کہ آسمانی پیدائش کا پہلا دن وہ ہوتا ہے(جب انسان دُنیا میں از سر نو پیدا ہوتا ہے) جب شیطانی زندگی پر موت وارد ہوتی ہے اور روحانی زندگی کا تولد ہوتا ہے جیسے بچہ کا تولد ہوتا ہے۔“ الحکم جلد 5 نمبر 1 صفحہ :4 مؤرخہ 10 جنوری 1901ء) بچہ کا تولد بھی انسانی زندگی میں ایک ایسا فعل ہے جو دوہرایا جاتا ہے۔انسان کی روح سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ ایمان کی برکت سے پیدا ہوتا ہے اگر ایمان نہ ہو تو انسانی زندگی میں وہ نیا بچہ پیدا نہ ہوگا۔اب حضرت اقدس علیہ السلام کی اس عبارت کی تشریح کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کی طرف میں واپس لوٹتا ہوں جس کی میں نے تلاوت کی تھی۔كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ المَوتِ ہر شخص نے ضرور موت کا مزہ چکھنا ہے۔یہاں ظاہری موت کی بات نہیں ہو رہی بلکہ ایک اور قسم کی موت کی بات ہو رہی ہے۔ہر شخص یا شیطان کے ہاتھوں ہلاک ہوگا یا اللہ کی خاطر خود اپنے آپ کو قربان کر دے گا۔یہ دو ہی امکانی موتیں ہیں جو روحانی زندگی میں رونما ہوا کرتی ہیں۔پس كُل نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اس دُنیا میں یا تو ضرور گا ی کو ہلاک ہو جائے گا اور شیطان کے ہاتھوں مارا جائے گا یا اللہ کی خاطر جیسے ابراہیم نے اپنے بچہ کو پیش کر دیا تھا اور اس سے پہلے اپنے نفس پر چھری پھیری تھی اسی طرح وہ ابراہیم کی طرح اپنے نفس پر