خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 111

خطبات طاہر جلد 17 111 خطبہ جمعہ 20 فروری 1998ء معرفت اور پاک تبدیلی پیدا کرنے کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات و نصائح ( خطبه جمعه فرموده 20 فروری 1998ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی : كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَ إِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ پھر فرمایا: (آل عمران: 186) كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ہر جان نے موت کا مزہ ضرور چکھنا ہے۔ ہر جان کے لئے مقدر ہے کہ وہ موت کا مزہ چکھے ۔ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ القِيمة اور تم اپنے بھر پورا جر قیامت کے دن دئے جاؤ گے۔ یہاں یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دنیا میں اجر نہیں دئے جاؤ گے۔ تو فون کا مطلب ہے بھر پور، ہر پہلو سے زیادہ سے زیادہ اجر قیامت کے دن دئے جاؤ گے ۔ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ پس جو بھی آگ سے دور رکھا جائے گا ۔ وَ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ اور جنت میں داخل کیا جائے گا۔ فَقَدْ فَازَ پس یقیناً وہ کامیاب ہوگا ۔ وَ مَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ اور دُنیا کی زندگی تو ایک دھو کے کا فائدہ اٹھانے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔