خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 100

خطبات طاہر جلد 17 100 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء پس کیا بد قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے۔“ اب یہ جو پہلی با تیں گزری ہیں ان کا انجام کار یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے۔جو باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بیان فرمائیں کہ ان سے بچو، ان کا خطرہ ہے، یہ عنتی زندگی ہے جو ان باتوں میں ملوث رہتے ہیں اور پروا نہیں کرتے ان کا انجام لا زماً یہ ہوتا ہے کہ د بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے اور ( پھر ) خدا کے حرام کو ایسی بیبا کی سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اس کے لئے حلال ہے۔“ یہ حلال و حرام کے جو چکر ہیں، بددیانتیاں رزق میں ، لوگوں سے دھوکا بازیاں یہ سارے اوپر کے مضمون سے تعلق رکھ رہی ہیں جو اس کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔” (پھر) غصہ کی حالت میں دیوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔“ یہ خدا سے منہ پھیرنے کے نتیجہ ہیں کیونکہ جو شخص خدا کا تصور دل پر ایک بادشاہ کے تصور کی طرح رکھتا ہے ایک کامل مقتدر بادشاہ کے تصور کی طرح رکھتا ہے اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی لمحہ اپنے غصہ سے اس قدر مغلوب ہو جائے کہ خدا کی پروا نہ کرے۔اپنے کسی جذبہ سے مغلوب ہو جائے کہ دیکھے ہی نہ کہ اس کو بھی کوئی دیکھ رہا ہے۔یوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور شہوات کے جوش میں بے حیائی کے طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔سو وہ سچی خوشحالی کو نہیں پائے گا یہاں تک کہ مرے گا۔“ اس دُنیا میں سچی خوشحالی اس کو نصیب نہیں ہو سکتی۔ایسے لوگ جن کا نقشہ ہے بظاہر عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔بظاہر حرام کھاتے اور بے پروا ہو جاتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرما رہے ہیں اس کو سچی خوشحالی بہر حال نصیب نہیں ہوگی۔یہاں تک کہ مرے گا۔،، ”اے عزیز و تم تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزرچکی۔“