خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 99

خطبات طاہر جلد 17 99 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء جو چاہیں سلوک کریں وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں پہچانا نہیں جارہا اور جو ہم کرتے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ اس پر انگلی رکھ سکے۔وو وو 66 حد سے زیادہ خدا یا اُس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پروا ہونا لعنتی زندگی ہے۔“ یہی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام خود فرما رہے ہیں جو میں پہلی عبارت کی تفسیر کر چکا ہوں۔حد سے زیادہ خدا یا اُس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پروا ہونا لعنتی زندگی ہے۔“ یہاں خدا کی ہمدردی مراد نہیں ہے خدا سے لا پروا ہونا یا اس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پروا ہونا فقرہ اکٹھا ہے اور کوئی غلطی سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ حد سے زیادہ خدا یا اس کے بندوں کی ہمدردی سے۔اگر اس فقرہ کو ہمدردی سے اس طرح ملایا جائے کہ خدا تو پھر ، خدا کو بھی ساتھ جوڑا جائے تو پھر اس کے ایک اور معنی بنتے ہیں۔خدا یہاں فاعلی حالت میں ہوگا اور بندے مفعولی حالت میں۔حد سے زیادہ خدا کی ہمدردی سے بے نیاز ہونا یعنی ایسی حرکتیں کرنا کہ خدا تمہارا ہمدرد نہ رہے اور حد سے زیادہ بندوں کی ہمدردی کرنے سے بے نیاز ہونا۔یہ بھی فرمایا ایک لعنتی زندگی ہے۔” ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ 66 ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔“ یہ جو پوچھا جانے کا تصور ہے یہ ہمارے کردار کو صحیح روش پر ڈالنے اور صحیح روش پر قائم رکھنے میں ایک غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے۔ہماری زندگی کو صحیح روش پر ڈالنے میں ایک غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ جو پوچھا نہیں جائے گا جس کو یہ احساس ہو کہ میں پوچھا نہیں جاؤں گا وہ جو چاہے کرتا پھرے اور یہ آج کی سب سے بڑی بلا ہے۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا جماعت میں کچھ لوگ ایسے ہیں وہ سمجھتے ہیں ہم اگر اپنے جتھے بنا کر بظاہر اپنی شان اور شوکت ظاہر کریں گے اور غلبہ کریں گے اور کہیں گے کہ تم ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہو یہ ان کی حماقت ہے۔کوئی نہیں ہے جو پوچھا نہ جائے گا۔اپنے ہر عمل کے بارے میں وہ پوچھے جائیں گے۔فرمایا اور اس سے زیادہ پوچھا جائے گا جیسا ایک فقیر پوچھا جائے گا کیونکہ فقیر تو صرف غریب کو ہی نہیں کہتے ایک مسکین انسان جس کا کوئی اثر ورسوخ نہ ہو اس سے بھی ضرور باز پرس ہوگی لیکن جن کا سوسائٹی پر اثر و رسوخ تھا جو صاحب حکمت بھی سمجھے جاتے تھے اور صاحب طاقت بھی تھے ان سے تو ضرور سختی سے باز پرس ہوگی اور وہ ضرور پوچھے جائیں گے۔