خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 98
خطبات طاہر جلد 17 98 خطبہ جمعہ 13 فروری 1998ء وو پرہیز گار انسان بن جاؤ تا تمہاری عمر میں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔ حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے۔“ وو یا ایک بہت ہی اہم ، ایک بڑا ابتلا ہے آج کی دنیا میں، جو دنیا میں ہر شخص کو در پیش ہے۔ حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے ۔“ آج ساری دنیا میں جو بحران پیدا ہو رہے ہیں وہ جتنی قوموں میں بھی ہو رہے ہیں ان میں حد سے زیادہ عیاشی کی زندگی بسر کرنے والے اس کے ذمہ دار ہیں۔ غریب ممالک کے بحران دیکھیں ان کا اقتصادی ڈھانچہ اگر اس بات پر مبنی ہوتا کہ کم سے کم زندگی کی سادہ ضروریات تمام انسانوں کو مہیا کی جائیں تو یہ اشتراکیت نہیں ہے، یہ قرآن کریم کا پہلا سبق ہے۔ اشتراکیت کے تو تصور میں بھی نہیں آسکتا کہ قرآن کریم کا پہلا سبق اشتراکی نظام کے انتہائی تصور سے بھی بڑھ کر ہے لیکن اس میں برائی نہیں ، اس میں کوئی چھینا جھپٹی نہیں، کوئی زبردستی نہیں۔ ہر سوسائٹی کا یہ فرض قائم کر دیا گیا ہے آدم کی جنت کے ذکر میں ، کہ ہر ایک کو روٹی ملے گی ، ہر ایک کو پانی ملے گا، ہر گا ہر ایک کو بچھونا میسر آئے گا، ہر ایک کے سر پر چھت ہوگی ۔ یہ چیز جو پہلا سبق تھا یہ انسانیت نے بھلا دیا ہے، حدکون سی ہے؟ وہ یہی حد ہے۔ ورنہ ہر شخص کہہ سکتا ہے میں عیاشی کرتا ہوں مگر تھوڑی کرتا ہوں ۔ کسی ملک کو حد سے زیادہ عیاشی میں مبتلا ہونے کی اجازت ہی نہیں ہے جب تک ان کے غریبوں کی پرسان حالی نہ ہو، ان کی ادنی لازمی ضرورتیں پوری نہ ہوں ۔ اس وقت تک جو لوگ یہ سمجھتے وفہ ہیں کہ ہمیں خدا نے دیا ہے ہم عیش و عشرت میں زندگی بسر کریں اسی کا نام حد سے زیادہ ہے کیونکہ انے و بعض کے حقوق بعض دوسروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں ۔ جن کا حق تھا زندہ رہنے کا جو خدا نے قائم ۔ کا کیا ہے اس حق پر قدغن لگائی جا رہی ہے اور تمام غریب ممالک میں یہی حال ہے اور تمام امیر ممالک میں یہی حال ہے۔ کوئی ملک بھی اس بد نصیبی سے خالی نہیں ہے۔ فرماتے ہیں یعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ بد خلق اور بے مہر ہونا لعنتی زندگی ہے۔“ عیاشی کے ساتھ حد سے زیادہ بد خلقی اور بے مہری کا تعلق ہے۔ بے مہری کا مطلب ہے کہ آپس میں بنی نوع انسان سے تمہیں محبت ہی نہیں رہی کہ ان کا دکھ تمہارا دکھ بن جائے بے حس ہو چکے ہوا اور جب ایک سوسائٹی الگ ہو جائے اور الگ زندگی بسر کرے تو متکبر ہو جایا کرتی ہے۔ حد سے زیادہ بد خلق سے مراد یہی بد خلق لوگ ہیں جن کے خلق آزمائے نہیں جاتے اور وہ اپنے دائرہ میں رہ کر کسی سے وو