خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 97

خطبات طاہر جلد 17 97 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء اے عقلمندو! ( یا اے اُولُوا الالباب ) یہ دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں تم سنبھل جاؤ۔تم ہر ایک بے اعتدالی کو چھوڑ دو۔ہر ایک نشہ کی چیز کو ترک کرو۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو اور آگے بڑھاتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ عادت جس چیز کی پڑ جائے وہ عادت اپنا غلام بنا لیتی ہے اور نشہ کی یہ تعریف فرمائی ہے کہ ہر وہ چیز جو تمہیں عادی بنا دے تم اس کے غلام ہو جاتے ہو اور یہ بات بھول جاتے ہو کہ جو چیز بھی تمہیں عادی بنادے اس میں نقصان ہوا کرتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو چائے اور کافی پر بھی اطلاق پاتی ہے۔وہ لوگ جو چائے کے عادی ہوں، میں بھی بظاہر عادی ہوں مگر میں نے چھوڑ کر بھی دیکھی ہے اور بالا رادہ چھوڑی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس امتحان میں کامیاب رہا ہوں۔کافی کی مجھے عادت ہوا کرتی تھی اب بڑی مدت سے بہت کم کبھی شاذ کے طور پر پیتا ہوں اور وہ بھی عادت کی وجہ سے نہیں کیونکہ شاذ کا مطلب ہی یہ ہے کہ عادت نہیں رہی۔پس میں اپنے او پر تجربہ کر کے یہ باتیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ نشہ کی اس تعریف کو آپ پیش نظر رکھیں تو بہت سی بلاؤں سے اور بہت سی بیماریوں سے بچ جائیں گے۔بہت بیماریاں عادات سے تعلق رکھتی ہیں جب کسی چیز کی عادت پڑ جائے اور وہ نہ ملے تو شدید بے چینی پیدا ہوتی ہے اور جتنے آج جرائم ہو رہے ہیں ان میں عادت کو بہت بڑا دخل ہے۔دُنیا کی اکثر قوموں میں جو جرائم پائے جاتے ہیں وہ عادات کی بنا پہ پائے جاتے ہیں۔ڈرگ ایڈکشن (Drug Addiction) عادت ہی تو ہے، شراب ایک عادت ہی تو ہے۔غرض یہ کہ ہر وہ بیماری جو آج دنیا میں پائی جاتی ہے اگر آپ غور کر کے دیکھیں تو اس میں عادت کا دخل ہے اور یہ عادت جو ہے یہ بے راہ روی سے بھی تعلق رکھتی ہے، جنسی تعلقات سے بھی اس کا واسطہ ہے۔پس جب میں ہر بیماری کی بات کر رہا ہوں تو سوچ سمجھ کر بات کر رہا ہوں اس کو حالات پر اطلاق کر کے آپ کو بتا رہا ہوں کہ عادات کا آج کے زمانہ کی بیماریوں سے گہرا تعلق ہے۔پھر فرماتے ہیں: ہر ایک سال ہزار ہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اس دنیا سے کوچ کرتے جاتے ہیں اور آخرت کا عذاب الگ ہے۔“ نشہ کے عادی کو اس دنیا میں بھی ضرور سز املتی ہے خواہ وہ محسوس کرے یا نہ کرے کہ اس کا نشہ سے تعلق ہے۔سزا کو تو محسوس کرتا ہے مگر یہ علم نہیں کہ میرے نشہ نے ہی میرے لئے مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔فرماتے ہیں اس کو جو سز املتی ہے وہ تو ملے گی ہی لیکن آخرت کا عذاب الگ ہے۔“