خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 96

خطبات طاہر جلد 17 96 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء میں ذکر کیا جائے۔اللہ ان سے خود نپٹے گا اور آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ جو بظاہر تعداد میں کم ہیں ان کے نکل جانے کے بعد ان میں بہت برکت پیدا ہوگی۔یہ آیت کریمہ اس غرض سے میں نے تلاوت کی ہے اور اسی تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض نصیحتیں بھی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا لیکن اس کے علاوہ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے اقتباسات ایسے ہیں جو ہر جمعہ پہ میں ساتھ لاتا ہوں لیکن پوری طرح وقت نہیں ملتا کہ ان کو پڑھ کے سنایا جائے۔سارے اقتباسات بہت اہم ہیں ان میں سے یہ مضمون بھی ملے گا جو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے لیکن اور بھی بہت اہم مضامین ہیں اور میرے نزدیک جماعت کی تربیت کے لئے آج کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کو پڑھ کر سنانے سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ہے۔اتنا گہرا اثر رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ، اس طرح دل کی گہرائی سے نکل کے دل کی گہرائی تک ڈوبتے ہیں اور ایک ایسے صاحب تجربہ کا کلام ہے جس کی بات میں ادنی بھی جھوٹ یا ریا کی ملونی نہیں ہے۔ہر بات جو کہتا ہے وہ سچی کہتا ہے اس سے زیادہ دل پر اثر کرنے والی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔پس اب میں اسی طریق کو اپناتے ہوئے جو گزشتہ چند مہینوں سے میں نے اپنا یا ہوا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں اور جہاں تشریح کی ضرورت ہوئی وہاں تشریح کروں گا۔اے عقلمند وا یہ دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں تم سنبھل جاؤ۔“۔کیسا سادہ اور کیسا پاک فقرہ ہے۔کیسی حقیقت ہے جس میں ادنی سا بھی جھول نہیں اور بیان کرنے کا انداز ایسا قوی ہے۔”اے عقلمند وا یہ دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں تم سنبھل جاؤ اور خطاب عقلمندوں سے ہے۔شاید کسی کو خیال گزرے کہ عقلمند و کیوں فرمایا؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُولُوا الالباب سے جو خطاب فرمایا ہے یہ وہی اُولُوا الا لباب ہیں۔عقلمند ہی ہیں جو نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔عقلمند ہی ہیں جو دُنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے ہمیشہ اللہ کو یاد کر کے ایمان میں ترقی کیا کرتے ہیں۔تو اس لئے فرمایا کہ: