خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد 17 95 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء اور جواب دہ ضرور ہوں گے تو پھر تمہیں کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے کہ خواہ مخواہ ہول میں مبتلا ہو کہ دیکھو ہمارا کیا بنا، ہم کتنے تھوڑے رہ گئے۔اس بات کو بالکل ذہن سے نکال دیا جائے۔اگر دس بھی ٹھیک ہیں تو وہ اللہ اور جماعت کی نظر میں وہی دس مقبول ہیں اور باقی سارے رڈ شدہ ہیں ان کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔ان کو علم ہی نہیں کہ دُنیا میں کتنے بڑے بڑے انقلاب آ رہے ہیں۔سینکڑوں جماعتیں ، ہزاروں جماعتیں ہر سال ایسی بنتی ہیں جو کلیۂ فدا ہیں وہ بڑی بڑی جماعتیں جن میں جتے تھے اب وہ مٹ مٹ کے گھل گھل کے ان کا کچھ بھی وجود نہیں رہا اور اب وہ سمجھ چکے ہیں کہ وہ بیکار ہیں۔جرمنی کا یہی حال تھا بڑی جتھا بندیاں تھیں شروع میں۔جب میں نے جرمنی کے معاملات میں دلچسپی لی خصوصیت کے ساتھ اور اللہ نے فضل فرمایا اور جرمنی کی جماعت کو از سر نو بیدار کرنا شروع کیا ہے تو اس وقت جتھے ہوتے تھے اور ہر جتھے کو یہ غرور تھا کہ ہم جتھے والے ہیں ہم پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے۔میں نے ان پر ہاتھ ڈالا ، ان کو دکھایا کہ خلیفہ وقت کو اگر اللہ یہ سمجھائے کہ ہاتھ ڈالو تو وہ ڈالے گا اور تمہاری کوئی بھی حیثیت نہیں ہے، تمہارے تکبر خاک میں مل جائیں گے۔یہی ہوا۔سب جھتے تحلیل ہو گئے۔اگر کہیں ہیں تو چھپے چھپے، دلوں میں گانٹھیں ہیں مگر بالعموم خدا تعالیٰ کے فضل سے ان ملکوں سے سب گندگی کا صفایا ہو گیا ہے۔تو اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ وہ بہت بڑا ہے اور متقی ہے تو میں آج اس کو متنبہ کر رہا ہوں۔قرآن کریم کی یہ آیت مجھے تقویت دے رہی ہے اور ان سب خدا کے پاک بندوں کو تقویت دے رہی ہے جو تعداد میں تھوڑے ہوں گے مگر جن کو جتھوں نے دبا ڈالا ہے۔ہرگز دبنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور میرا ارادہ یہ ہے کہ ان کو پہلے خطوط کے ذریعہ ایک دفعہ متنبہ کردوں، سمجھا دوں کہ آپ کی باتیں میری نظر میں ہیں۔میں دورے بھی کر چکا ہوں، سمجھتا ہوں کون لوگ کتنے بڑے جتھے رکھتے ہیں، ان کو کس بات کا غرور ہے لیکن میں آج کے خطبہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ اگر وہ باز نہ آئے تو آپ ان کا ذکر نہیں سنیں گے وہ مٹ گئے اور ختم ہو گئے اور جماعت انہیں چند سے دوبارہ ترقی کرے گی جو چند خدا کے بندے جماعت میں موجود ہیں اور پاکباز ہیں اور نظام جماعت کا احترام کرنے والے ہیں۔اب اپنے دلوں کو ٹول کر جنہوں نے دیکھنا ہے وہ دیکھ لیں لیکن میں بھی تحریری طور پر واضح تنبیہ کرنے والا ہوں اور اس کے بعد وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان کا خطبوں