خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 94

خطبات طاہر جلد 17 94 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء وجود تھا۔اس قسم کے بہت سے وسوسے بعض جماعتوں میں گھومتے پھرتے ہیں اور اکثر جماعتوں کی اصلاح خدا تعالیٰ کے فضل سے ہو چکی ہے لیکن وقتا فوقتا یہ فتنے پھر بھی سراٹھاتے ہی رہتے ہیں۔یہاں اس آیت کریمہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمہیں اپنی پڑنی چاہئے ،تمہیں پرائی سے کیا غرض ہے۔جہاں تک نقصان پہنچنے کا تعلق ہے وہ لوگ جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، جن کو نکال دیا جاتا ہے، جو عہدوں کے باوجود اپنے کردار کی حفاظت نہیں کرتے وہ تمہارا نقصان نہیں کر سکتے پھر تمہیں کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے۔اپنی فکر کرو اور اپنی فکر پہ اتنا زور ہے کہ فرمایا عَلَيْكُمُ انْفُسَكُم یا درکھو تم سے تمہارے متعلق پوچھا جائے گا تم سے ان لوگوں کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔اپنی فکر میں پڑو یہ نہ ہو کہ تمہارے جتھے سارے کے سارے خدا کے نزدیک رڈ کر دیئے جائیں ، جن جتھوں کا غرور لئے پھرتے ہو جس غرور میں ہمیشہ مخر جین کی تائید اور عامتہ الناس پہ یہ اثر کہ ہم اکٹھے ہیں، ہم دیکھو کتنے بڑے لوگ ہیں یہ بات پائی جاتی ہے۔اس خطبہ میں میرے ذہن میں خاص طور پر ایک ملک ہے جو سکینڈے نیویا (Scandinavia) سے تعلق رکھتا ہے۔اس سے پہلے میں بہت کوشش کر چکا ہوں کہ ان کے جتھے ٹوٹیں اور ان کو عقل آئے کہ ان میں سے ہر ایک نے خود مرنا ہے اور اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور یہ جتھے اگر مخر جین کی تائید میں بنے ہوئے ہیں تو ایک کوڑی کا بھی فائدہ ان کو حاصل نہیں ہوگا۔جواب دہی ان کی ہوگی۔اگر یہاں نہیں تو مرنے کے وقت اور مرنے کے بعد ہوگی۔آج میں ان کا پول نہیں کھولنا چاہتا عمومی مضمون بیان کروں گا۔میرا ارادہ یہ ہے کہ ہر ایک کو میں لکھ دوں کیونکہ اب ان کے حالات برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔مستقل ، پرانی گانٹھیں ہیں جو ٹوٹنے میں نہیں آر ہیں اور غرور جتھے کا ہے اور وہ بدقسمت ملک جن میں جماعت سے عدم تعلق والے جتنے زیادہ ہیں اور فتنہ و فساد والے جتھے زیادہ ہیں اور نیک لوگ نسبتا کم ہیں ان بے چاروں کو مصیبت پڑی ہوئی ہے۔وہ سمجھتے ہیں پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔پہلے تو میں ان سے عرض کرتا ہوں کہ دیکھو تمہیں ان کا جتھا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔اگر ہزار میں سے تم دس بھی ہوئے تو اللہ تعالیٰ تمہاری قدر فرمائے گا تو تم اتنے پریشان کیوں ہوتے ہو۔جتے بنتے ہیں بننے دو خدا توڑے گا، ان کے غرور اور تکبر کو وہ ضرور خاک میں ملائے گا اور یہ اپنے سوا اور کسی کا نقصان کر نہیں سکتے۔یہ خوشخبری جب اللہ نے تمہیں دے دی ہے کہ تمہارا نقصان نہیں کر سکتے