خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 93

خطبات طاہر جلد 17 93 خطبہ جمعہ 13 فروری1998ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں جتھا بازی کرنے والوں کو تنبیہہ اور نصائح (خطبه جمعه فرموده 13 فروری 1998ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُم إلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (المائدة: 106) ط پھر فرمایا: اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اے مومنو! تم اپنی جانوں کی حفاظت کرو۔یہاں زورا اپنی پر ہے۔جب تم ہدایت پا جاؤ تو کسی کی گمراہی تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔تم سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔پس جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سے تمہیں آگاہ فرمائے گا۔اس آیت کریمہ میں بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی گمراہی کی فکر نہیں کرنی۔ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔قرآن کریم نے ایک ہی مضمون کے ہر پہلو کو بہت بار یکی اور لطافت سے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص گمراہ ہو جائے ، ایسے بھی ہیں جو سزا یافتہ ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جو عہدیدار ہیں لیکن ان میں کچھ نقائص بھی پائے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق جماعتوں میں اکثر یہ سوال اٹھتا رہتا ہے اور گھومتا پھرتا ہے کہ فلاں شخص جو ہے وہ اس عہدہ پر قائم ہے اور یہ نقائص رکھتا ہے، فلاں شخص کو بے وجہ سزا دے دی گئی اور وہ باہر نکل گیا حالانکہ وہ ایک مفید