خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 91

خطبات طاہر جلد 16 91 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء جماعت کے بعض ذمہ دار عہدیداران نے بعض انتظامی کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی اور میں جانتا ہوں کہ انہوں نے پوری نفس کی صفائی کے ساتھ ایسا کیا، ہرگز کسی منفی جذبے کے ساتھ تنقید کی خاطر نہیں کیا۔وہ چودھری صاحب کا بڑا احترام کرنے والے لوگ تھے۔مگر چونکہ ان کا دینی تقاضا تھا، اپنی اس وفا کا تقاضا تھا جو نظام سے ہر احمدی کو ہونی چاہیے اس عزت اور احترام کے باوجود انہوں نے چودھری صاحب کو بھی مطلع کیا کہ میرے نزدیک یہ انتظامی کمزوریاں پیدا ہو رہی ہیں اور آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور مجھے بھی مطلع کیا۔چنانچہ بعض ایسے معاملات تھے جن کو اس صورت میں نظر انداز کرنا میرے فرائض کے منافی ہوتا۔پس اپنے ذاتی ، گہرے، پرانے تعلق کے باوجود ان خدمات کا اعتراف رکھنے کے باوجود جو انہوں نے سرانجام دیں یہ بات لازم تھی کہ جماعت کو بتایا جائے کہ نظام جماعت میں اگر کوئی کمزوری پیدا ہوگی تو اس کی تحقیق لازم ہوگی خواہ کوئی کیسا ہی بڑے مرتبے تک پہنچا ہوا انسان ہو جس کی طرف وہ کمزوری منسوب کی گئی ہو اور انصاف کا تقاضا ہے کہ چھوٹے عہد یدار کے خلاف شکایت ہو یا بڑے سے بڑے کے خلاف شکایت ہوا ایسے شخص کے خلاف شکایت ہو جس کی ساری زندگی وقف رہی ہو جماعت کے لئے تب بھی اگر ان معاملات میں دوسروں کے تعلق میں کمیشن بیٹھے ہیں اگر ان معاملات میں دوسروں کو وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے تو لازماً ایسے موقع پر ایسے شخص کو بھی معطل ہونا چاہئے۔چنانچہ چودھری صاحب خود اس بات کو سمجھتے تھے اور انہیں ایک ذرہ بھی اس بات میں شکوہ پیدا نہیں ہوا۔صرف استغفار کے خط ملا کرتے تھے کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے اس ابتلا سے ثابت گزاردے اور تحقیق کے نتیجہ میں کوئی داغ نہ مجھ پر آئے۔چنانچہ گزشتہ جو تحقیق ہوئی اس کے نتیجہ میں یہ بات تو کھل گئی کہ آپ انتظامی طور پر بار یک ذمہ داری ادا کرنے کے لئے اتنی صحت نہیں رکھتے اور کمیشن نے جو بات کھولی وہ یہی تھی کہ آپ میں اب یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنے ماتحتوں کی اس طرح نگرانی کریں جس طرح پہلے کیا کرتے تھے۔اس لئے اگر ماتحتوں سے ان باتوں میں کوئی نقص واقع ہوا ہے تو امیر کو اس کی ذمہ داری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔اس پہلو سے وہ تعطل جو تھا وہ جائز قرار پایا۔مگر آخری رپورٹ سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کو بلا لیا تا کہ یہ معاملہ اسی طرح ختم ہو اور جہاں تک ان کے اوپر کسی قسم کی سرزنش کا تعلق ہے اس کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوا۔مجھے پورا یقین ہے کہ ذاتی طور پر آپ ہر داغ سے پاک تھے اس معاملے میں۔مگر وہ صحت کی کمزوری جس کا