خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 92

خطبات طاہر جلد 16 92 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء میں نے ذکر کیا، اس کے نتیجے میں مجبور تھے اور گہری تفصیلی نگرانی کر نہیں سکتے تھے۔پس جب جماعت کراچی نے مجھ سے پوچھا کہ ان کی وصیت کے متعلق کیا کرنا ہے۔میں نے کہا کہ لازماً وہ قائم وصیت ہے، بہت عظیم خدمات کی ہیں۔جماعت احمدیہ کراچی پورے اعزاز کے ساتھ اور پوری وفا کے ساتھ ان کی تجہیز و تکفین کے فرائض سرانجام دے اور محبت بھری دعاؤں کے ساتھ اس مرحوم بھائی کو رخصت کرے اور اس لئے ان کے لئے بہشتی مقبرہ میں چوہدری انور حسین صاحب مرحوم کے ساتھ جو جگہ تھی خالی ، وہاں میں نے ان کی تدفین کا فیصلہ کیا ہے۔تو یہ وضاحت اس لئے ضروری تھی کہ لوگوں میں یہ باتیں پھیل تو جاتی ہیں کہ ایک شخص جو اتنی بڑی قربانی کرنے والا ، اتنے لمبے عرصے تک خدمتیں سرانجام دیتارہا، وہ معطل ہو گیا ہے لیکن ان کو یہ نہیں پتہ کہ اس شخص کا کیا احترام میرے دل میں ہے اور میری کیا مجبوریاں تھیں کہ اس کا وہ فقطل لازماً کرنا ہی پڑنا تھا۔تو یہ تمہید ان الزامات سے ان کو صاف کر رہی ہے جس کے متعلق بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گویا یہ خود بعض باتوں میں ملوث تھے۔میں اس کی وضاحت کر رہا ہوں ہرگز کوئی ایسی بات ثابت نہیں۔بلکہ وہی کمزوری تھی جو دراصل صحت کی کمزوری تھی جس پر بالآخر آپ کو چند روز تک اس علالت کا سامنا کرنا پڑا جو جان لیوا ثابت ہوئی۔دراصل اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کے Lungs میں کینسر تھا اور ان کے بیٹے نے ڈاکٹری رپورٹ میں جو اس نے اب بتائی ہے ان کو، یہ دیکھ کر مجھے فون پر بتایا کہ دراصل کینسر کا Lump بن گیا تھا اور یہ کوئی فور پیدا ہونے والی بات نہیں، پرانی بات تھی۔پہلی بیماریوں کے حملے بھی اسی وجہ سے تھے۔مگر ایک حد تک مقابلہ تو ہو سکتا ہے مگر کینسر جب اتنا اوپر اتنا پرانا ہو جائے اور اچھی طرح پنجے گاڑے تو پھر بالآخر انسان کو اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور یہ رمضان کے جمعہ میں اکیسواں رمضان کا جمعہ ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ان پر احسان ہے۔بہت وسیع خدمتیں کی ہیں، بڑے انتھک کام کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور ان کی اولا داور عزیزوں اور ساری جماعت کراچی کو ان کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ چھٹے رہنے کی توفیق بخشے۔اس تمہید کے بعد اب میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں اور عصر کی نماز کے فوراً بعد انشاء اللہ نماز جنازہ ہوگی۔