خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 954 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 954

خطبات طاہر جلد 16 954 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء کوئی غصے سے بولا ہے تو غصے سے اس کا جواب دینے کو دل چاہے گا۔ہر موقع پر، ہر انسانی خواہش پر زنجیریں ڈال دی گئی ہیں اس کے نفس پر باگیں کس دی گئی ہیں۔اب ایسا شخص اللہ کے حکم کے تابع ہے اس سے ہٹ کر ادھر ادھر جا نہیں سکتا۔یہ اس کی زکوۃ ہے اور اس زکوۃ کا ایک مطلب یہ ہے کہ جب رمضان گزر جائے گا تو اس کے اندر جو اچھی باتیں تھیں وہ بڑھ جائیں گی۔پہلے اس کا کلام بیہودہ بھی ہوا کرتا تھا تو رمضان کی باگوں کے ذریعہ رفتہ رفتہ اسے اچھا کلام کرنے کی عادت پڑ جائے گی اور جب سوچے گا کہ میں کیوں کلام نہیں کر رہا تو معلوم ہو جائے گا کہ میرے کلام میں کچھ بدیاں داخل تھیں اب اللہ کی خاطر نہیں کر رہا تو اس خواہش کو آئندہ بھی پورا ہونا چاہئے اور رمضان کے بعد بھی یہ چیز بڑھنی چاہئے۔یہ زکوۃ ہے جس کی طرف خصوصیت کے ساتھ حضوراکرم نے یہ حوالہ دیا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں روزے نہیں رکھنے کہ میری صحت ٹھیک نہیں رہتی۔یہ بالکل لغو بات ہے۔روزوں سے ہی صحت اچھی ہوتی ہے اور کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو رمضان کو ٹھیک حالت میں گزار دے اور وہ پہلے سے بہتر نہ ہو جائے۔میں نے گزشتہ رمضان میں یہ ذکر کیا تھا کہ اسرائیل کے ڈاکٹر ز نے غالباً اسلام پر حملے کی نیت سے اور یہ بتانے کی خاطر کہ دیکھو روزے رکھ کر بچوں کی صحت خراب کر دیتے ہیں ، بوڑھوں کمزوروں کی صحت خراب کر دیتے ہیں اس لئے مضر عادت ہے ایک تحقیق شروع کی اور یہ ان کو ضرور ہمیں خراج تحسین پیش کرنا چاہئے کہ تحقیق میں سچے تھے حملہ کی نیت بدی کی ہوگی مگر تحقیق میں بچے تھے۔بڑی کثرت سے انہوں نے تحقیق کی۔کمزوروں پر، بوڑھوں پر، بچوں پر اور تحقیق کا آخری نتیجہ یہ نکالا اور حیران رہ گئے کہ ہر شخص جس نے روزے رکھے ہیں اس کی صحت رمضان سے پہلے خراب تھی ، رمضان کے بعد اچھی ہو گئی۔تو یہ آج کی دنیا میں جو اسلام پر سختی سے تنقید کرنے والے لوگ ہیں وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ کی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔فرمایا : صُومُوا تصحوا نجم الأوسط باب اسم من بقية من أول اسم من اسمه موسی حدیث: 8312) روزے رکھا کرو تمہاری صحت اچھی ہوگی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس حدیث میں جسمانی صحت کی طرف ہی اشارہ نہیں جیسا کہ لوگ عام طور پر سمجھتے ہیں صُومُوا تصحوا سے مراد ہے تم ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ گے۔تمہیں بہت سی بدیاں لاحق ہیں، تم روحانی طور پر بیمار ہو، تمہیں علم نہیں ہے روزے رکھو گے تو بہت سی بیماریاں جھڑ جائیں گی اور تمہارے روحانی بدن کو بھی صحت نصیب ہوگی۔ایک روایت میں