خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 90

خطبات طاہر جلد 16 90 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء جماعت کو پہنچایا تھا اس کو قائم رکھنا اور آگے بڑھانا کوئی معمولی کام نہیں تھا مگر انہوں نے ہر پہلو سے اس خدمت کا حق ادا کیا لیکن علمی کمی جو میں نے بیان کی ہے وہ دراصل محض ڈگریوں کی حد تک علمی کمی تھی۔ابھی میں نے جمعہ میں مضمون بیان کیا ہے کہ انسان نیکی اور تقویٰ سے ظاہری علمی کمی کو پورا کر سکتا ہے اور بہت بلند علمی مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔چودھری صاحب کے اوپر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس پہلو سے حیرت ہوتی ہے کہ آپ کی زبان انگریزی بھی بہت اعلیٰ تھی اور بے حد پڑھنے کا شوق۔اور ایک میٹرک پاس آدمی سے انسان یہ توقع کر ہی نہیں سکتا کہ اتنا گہرا علم حاصل کر لے گا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تو ایسا عشق تھا کہ آپ اپنے طور پر روزانہ جماعتی کاموں کے علاوہ صبح شام چار گھنٹے باقاعدگی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب کا انڈیکس بنانے میں صرف کرتے تھے۔آپ کے پسماندگان میں ایک بیوہ، جو دوسری شادی تھی ، پروین مختار جو ہمارے انگلستان کی رہنے والی ہیں اور لجنہ کے کاموں میں میری مددگار ہیں، لجنہ کے مرکزی کاموں میں رپورٹیں وغیرہ مرتب کرنا، ٹیم بنائی ہوئی ہے اور ہر قسم کے جوابات بھجوانے کی آخری ذمہ داری ان پر ہے، ایک یہ ہیں۔دو بیٹے ہیں ایک محمود مختار صاحب جو انگلستان ہی میں رہتے ہیں اور ایک انیس صاحب جن کا ذکر گزرا ہے اور ایک ان کی بیٹی ہیں، یہ تین بچے انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں۔اس ضمن میں یہ بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ کن حالات میں گزشتہ چار ، ساڑھے چار ماہ پہلے ان کو جماعت کی امارت کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔اول تو یہ کہ گزشتہ دوسال سے بہت گہری بیماریاں لاحق ہوتی رہیں یہاں تک کہ ایک موقع پر ایک پھیپھڑا Collaps کر گیا اور لگتا یہ تھا کہ اب یہ آخری وقت ہے۔مگر بے حد تو کل اور ہمت تھی ہر قسم کی بیماری کا مقابلہ بڑے صبر سے کرتے تھے اور ہمیشہ ہر بیماری پر مجھ سے فون پر رابطہ کر کے ہومیو پیتھک علاج بھی کروایا کرتے تھے۔ہومیو پیتھک خود بھی عبور تھا اور یقین تھا مگر ساتھ ہی دوسرے علاج سے بھی کبھی آپ نے تر در نہیں کیا علاج کروانے میں۔ڈاکٹر احسان صاحب ہیں ہمارے بڑے مخلص، ایک خدمت کی روح رکھنے والے ڈاکٹر اور بڑے قابل ڈاکٹر ہیں وہ ہمیشہ ان کا خیال رکھتے رہے۔تو گزشتہ دو تین سال سے میں نے محسوس کیا تھا کہ جماعتی ذمہ داریوں کے لئے جتنی طاقت چاہئے وہ طاقت رفتہ رفتہ کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں پھر چند ماہ پہلے مجھے کراچی کی