خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد 16 89 خطبہ جمعہ 31 /جنوری 1997ء پس میں امید رکھتا ہوں کہ اس وضاحت کے بعد جو بھی دن باقی ہیں وہ اس قسم کے احتساب میں صرف ہوں گے نہ کہ محض روزے رکھنا ثواب کی خاطر۔روزے رکھنا اپنے نفس کے گہرے جائزے کے ساتھ ، ایک ایک چیز کی چھان بین کرنا، ہر نقص کی تلاش کرنا اسے دور کرنے کے لئے کوشش اور جدو جہد کرنا اس کو اپنی ساری زندگی کا ایک پیشہ بنالیں جس سے کبھی پھر جدائی نہ ہو، کبھی بھی آپ اس پیشے سے غافل نہ رہیں۔اس مختصر نصیحت کے بعد مختصر تو بظاہر آپ کو نہ شاید گی ہومگر جتنا وسیع مضمون ہے اس پہلو سے واقعہ یہ بہت مختصر ہے مگر میں امید رکھتا ہوں کہ بات اتنی کھل گئی ہے کہ اب ہر احمدی کسی بھی علمی معیار کا ہو وہ اس مضمون کو سمجھ کر انشاء اللہ اس سے استفادہ کر سکے گا۔اب آخر پر میں ایک نماز جنازہ کا اعلان کرنا چاہتا ہوں جو مکرم ومحترم چودھری احمد مختار صاحب سابق امیر جماعت کراچی کی نماز جنازہ ہوگی جو عصر کی نماز کے معابعد ہوگی۔چوھدری صاحب کا ذکر خیر ان کے لئے دعا کی تحریک کی خاطر کچھ کرنا لازم ہے۔آپ موضع دیڑھ چک 29 سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ میں 1909ء میں پیدا ہوئے۔تو اس پہلو سے آپ کی عمر تقریباً 90 سال بنتی ہے اور ان کی زندگی کا آغاز بہت غربت میں ہوا ہے۔والد چونکہ جوانی میں فوت ہو گئے تھے اس لئے آپ میٹرک سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکے اور پھر کو آپریٹو بینک میں بطور آڈیٹر ملازم ہوئے۔پھرشاہنواز لمیٹڈ دیلی میں بطور ڈائریکٹر ملازمت اختیار کی۔پھر تقسیم ملک کے بعد آپ نے کچھ عرصہ شاہنواز میں کام کے بعد اپنا آزاد کاروبار شروع کیا اور آخر وقت تک اس کا روبار میں سے کیمیکلز کی جو ایجنسی تھی وہ آپ کے پاس ہی رہی اور چونکہ ہمہ تن جماعت کے کاموں کے لئے وقف ہو چکے تھے اس لئے آپ کے بیٹے عزیزم چودھری انیس احمد صاحب ان کا کام چلاتے رہے، صرف عمومی نگرانی کرتے تھے مگر سارا وقت جماعت کے لئے وقف رہے۔جماعتی عہدوں کا آغاز کراچی میں سیکرٹری امور عامہ سے ہوا پھر زعیم انصاراللہ بنے پھر نائب امیر جماعت کراچی منتخب ہوئے۔پھر 1965ء میں امیر جماعت احمدیہ کراچی منتخب ہوئے اور گزشتہ تقریباً ساڑھے تین، چار ماہ پہلے تک آپ امیر جماعت کراچی ہی رہے۔اس دوران میں جو غیر معمولی خدمتوں کی توفیق ملی ہے اس کی تفصیل تو بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔جماعت احمد یہ کراچی پر آپ نے بے حد محنت کی ہے اور چوہدری محمد عبداللہ خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس معیار پر