خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 953
خطبات طاہر جلد 16 953 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء ضرورت مند اپنے محسن کو جان رہا ہے اور محسن ضرورتمند مند کی ضرورت کو پہچان رہا ہے۔یہ دو طرفہ نظر آنے والی بات ہے لیکن اگر وہی شخص راتوں کو اٹھ کھڑا ہو جب کہ سب لوگ سوتے ہیں تو اس کی اس نیکی کو کوئی نہیں جانتا کسی کوخبر نہیں کہ اس نے رات کیسے بسر کی۔پس اللہ کی یہ شان ہے کہ جنت میں ان کی اندرونی نیکیاں بھی دکھائی جائیں گی اور چونکہ جنت میں داخل ہونے والوں کے کوئی ایسے کاروبار نہیں جو دنیا کی نظر سے چھپائے جانے والے ہوں وہاں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں ، وہاں جو کچھ بھی ہے نیکی کی بات ہی ہے جس کے ظاہر ہونے میں حرج نہیں مگر دنیا میں جو نیکیاں چھپایا کرتے تھے اور ان کو دوسروں کو دیکھنے نہیں دیا کرتے تھے، تھیں وہ بہت پیاری۔اللہ کی شان ہے جنت میں اللہ فرماتا ہے میں دکھاؤں گا ان کو۔سب لوگ جان لیں گے کہ یہ وہ لوگ تھے جن کی چھپی ہوئی باتوں کا ہمیں کوئی علم نہیں۔اس طرح یہ خدا تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے، اس طرح نیکیاں کیا کرتے تھے۔پس یہ خدا کی شان ہے کہ احادیث نبویہ جو کچی ہوں خود بولتی ہیں۔ناممکن ہے کہ وہ رسول کے سوا کسی اور کا کلام ہو اور مجھے کبھی بھی ضرورت نہیں پڑی کہ راوی کے حوالے سے حدیث کو سچا جانوں، ہمیشہ میں نے حدیث کے حوالے سے حدیث کو سچا جانا ہے۔اتنی قطعی ہدایت اپنے اندر رکھتی ہے، اتنا قطعی ثبوت رکھتی ہے، ایسا فرقان ہوتی ہے کچی حدیث کہ اسے کسی راوی کی حاجت نہیں ہے۔ایک اور بات جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اس میں فرمائی رمضان کے متعلق ، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، یہ ابن ماجہ کی روایت ہے، ہر چیز کو پاک کرنے کے لئے اس کی ایک زکوۃ ہوتی ہے، یعنی آپ لوگ اپنے وجود میں سے ہر چیز کا کچھ نہ کچھ حصہ خدا کی خاطر جب نکالتے ہیں تو بظاہر وہ کم ہوتا ہے مگر ز کوۃ کا مطلب ہے کہ اللہ کے نزدیک بڑھ جاتا ہے اور اس کے زکوۃ ہونے کا ثبوت یہ ملتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی برکت پاتا ہے اور آخرت میں بھی برکت پاتا ہے ضائع نہیں ہوا کرتا۔فرمایا: ہر چیز کو پاک کرنے کے لئے ایک زکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی ظاہری و باطنی زکوۃ اور پاکیزگی کا ذریعہ روزہ ہے، جب آپ روزہ رکھتے ہیں تو اپنے وجود میں سے ہر چیز میں سے اللہ کا حصہ نکالتے ہیں۔بھوک لگتی ہے، پیاس لگتی ہے، بعض دفعہ شور مچانے کو دل چاہتا ہے، بعض دفعہ لغو باتیں انسان کرتا ہے، جس کو عادت ہے وہ کوئی لغو لطیفے بھی سنانے کی کوشش کرے گا ،