خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 952 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 952

خطبات طاہر جلد 16 952 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء کہ یہ لازماً حضرت اقدس رسول اللہ ﷺ کا کلام ہے ورنہ جیسا کہ مضمون آگے بڑھے گا آپ حیران ہو جائیں گے کہ کسی اور کے دماغ میں یہ خیال آ نہیں سکتا تھا۔عام طور پر انسان اپنے گھر کی پردہ پوشی چاہتا ہے کہ ہر حالت میں لوگ اس کو باہر سے نہ دیکھیں۔اگر یکطرفہ شیشے مل جائیں جیسے آجکل میسر ہیں تو اندر سے باہر تو دیکھ سکتا ہے اور باہر سے اندر نظر نہیں آتا۔یہ ایک فطری تمنا ہے اور اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ اب ایسی جالیاں بن گئی ہیں، ایسے شیشے مل گئے ہیں جو موٹروں کے اندر لگا دئے جاتے ہیں تا کہ اندر کا مسافر باہر کی سیر کر سکے اور بیرونی آدمی اندر نہ دیکھ سکے یہ ان لوگوں کی ایجادیں ہیں جو بے پرد ہیں، جن کو اپنا اندرونہ چھپانے کا کوئی ہوش نہیں بھی ہوتا لیکن فطرت کو نہیں دبا سکے۔فطرت انسانی بہر حال یہی چاہتی ہے کہ وہ خود لوگوں کی نظر سے محفوظ رہے اور لوگ اسے دکھائی دیا کریں لیکن اس حدیث کی عجیب خبر ہے فرمایا کہ بالا خانے ایسے ہوں گے کہ اندر کے لوگ باہر دیکھ سکیں گے اور باہر کے لوگ اندر دیکھ سکیں گے۔اب یہ بھی بہت دلچسپ بات ہے۔اس زمانے میں اگر اندر کے لوگ باہر دیکھ سکتے تھے تو طبعی لازمی بات تھی کہ باہر کے لوگ اندر بھی دیکھ سکتے ہوں۔وہ شیشے تو ایجاد نہیں ہوئے تھے جو یکطرفہ ہوں۔تو خصوصیت کے ساتھ بالا خانوں کا اس طرح ذکر کرنا کہ وہ اس زمانے کا کلام معلوم ہی نہیں ہوتا۔اس زمانے کی بات ہے جب یکطرفہ شیشے یا جھرو کے ایجاد ہو گئے تھے جن میں سے یکطرفہ نظر آیا کرتا تھا۔تو حضرت علیؓ کو رسول اللہ ہی کی طرف یہ بات منسوب کرنے کی ضرورت کیا تھی جو اس زمانے کے لحاظ سے عجیب بات ہے کہ بالا خانے ہوں گے اور اندر کے لوگ باہر دیکھ سکیں گے اور باہر کے لوگ اندر بھی دیکھ سکیں گے تو ان بالا خانوں کا جس میں برسر عام گویا چوک میں پڑے ہوئے ہیں ان کا کیا فائدہ۔اس سے آگے جو مضمون ہے وہ بہت دلچسپ ہے وہ اس پر پُر حکمت روشنی ڈال رہا ہے۔یہ بات سن کر ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ حضور ایسے بالا خانے جہاں دوطرفہ نظارہ ہوگا یہ کن کے لئے ہوں گے؟۔فرمایا یہ ان کے لئے ہوں گے جو خوش گفتار ہوں گے، ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے والے روزوں کے پابند اور راتوں کو جب سہ لوگ سوتے ہیں تو وہ نمازیں ادا کریں گے۔اس کا اس بات سے کیا تعلق ہے؟ انسان کی نیکی کے کچھ پہلو ہیں جو بنی نوع انسان کی طرف کھلے ہوئے ہیں اور بنی نوع انسان ان کے ان پہلوؤں کو دیکھ رہا ہے۔ایک انسان جب ضرورت مند کی ضرورت پوری کرتا ہے جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے تو