خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 951
خطبات طاہر جلد 16 951 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء سے چھٹکارا ہو جائے جن کو دیکھنا دو بھر ہے۔اس لئے بہر حال اب میں ضمنا یہ بات بیان کرنے کے بعد احادیث نبویہ کی طرف آتا ہوں۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: الصيامُ جُنةٌ وَ حِصْنَّ حَصِيْنٌ مِّنَ النَّارِ (مسند احمد بن حنبل مسند المشركين من الصحابة مسندابى هريرة حديث : 9225 ) مسند احمد سے یہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رمضان ایک ڈھال ہے۔ڈھال آگے رکھی جاتی ہے تا کہ تیروں کی بارش نہ ہو۔تو رمضان تمہیں ہر قسم کی بدیوں کے مقابل پر ایک ڈھال کے طور پر عطا ہوا ہے۔شیطان نے تیر مارنے ہیں ، وساوس ضرور تمہاری طرف اچھالے جائیں گے لیکن رمضان ان وساوس، ان بدخیالیوں کے لئے ایک ڈھال بن جائے گا۔وَ حِصْنَ حَصِيْنٌ مِّنَ النَّار اور آگ کے مقابل پر وہ ایک ایسا قلعہ ہے جو حصن حصین ہے یعنی ایسا قلعہ جسے بہت مضبوط بنایا گیا ہو جس تک دشمن کی رسائی ممکن ہی نہ ہوتو اللہ کے فضل سے اب ہم اس حصن حصین میں داخل ہونے والے ہیں۔روزہ آگ سے بچانے والی ڈھال ہے اس سے متعلق ایک اور روایت ہے نسائی کی کتاب الصوم سے۔مطرف سے روایت ہے کہ میں عثمان بن العاص کے پاس گیا، انہوں نے دودھ منگوایا۔صلى الله میں نے کہا میں روزے سے ہوں۔عثمان کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ روزہ آگ سے بچانے والی ڈھال ہے اور اس سے پہلے جو ڈھال کا ذکر تھا آگ میں داخل کرنے کے لئے آگ کے تیر آپ کی طرف جتنے کئے جاتے ہیں اگر آپ ان کو اپنے بدن تک پہنچنے دیں، اپنے دل تک پہنچنے دیں تو وہ آگ لگانے والے ہیں ، ان سے روزہ ڈھال ہے جس طرح جنگ سے بچنے کے لئے تم میں سے کسی کی ڈھال ہو۔یہ اسی حدیث کی تشریح ایک اور حدیث سے ملتی ہے۔اب یہ ایک بہت دلچسپ حدیث ہے جس پر خوب غور کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ان فِي الجَنَّةِ عُرَفَاتُرى ظُهُورُهَـامِـنْ بُطُونُهَا وَ بُطُونُهَا مِن ظَهُورِهَا۔یہ حدیث جامع ترمذى كتاب البر والصلة عن رول الله باب ماجاء في قول المعروف (سنن الترمذى أبواب البر والصلة باب ماجاء فی قول امعروف حدیث :1984) سے لی گئی ہے۔حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں بالا خانے ہوں گے جن کے اندرونے باہر سے اور خارجی حصے اندر سے نظر آتے ہونگے۔اس حدیث کا مضمون بتا رہا ہے