خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 949
خطبات طاہر جلد 16 949 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء کا ایمان ہی اصل ایمان ہے باقی سب ایمان دُور کی باتیں ہیں۔تو رمضان کی یہ خوبی ہے کہ اس کے آخر پر جہاں تَشْكُرُونَ کے بعد وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں شکر ادا کرو وہاں یہ وضاحت ہے کہ ہر رمضان تمہارے لئے خدا کو لے کے آتا ہے، ہر رمضان کا پھل اللہ تعالیٰ ہے۔اگر خدا مل جائے تو پھر تمہیں اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ اسے ڈھونڈتے پھرو، اسے پکارتے پھرو۔جب اللہ مل جاتا ہے تو پھر یا درکھو فَانّي قَرِيب خدا پھر ساتھ رہا کرتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر مختلف کتب میں اور اپنی ملفوظات کی مجالس میں بہت روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یادرکھو! اللہ اگر واقعہ ایک دفعہ مل جائے تو پھر چھوڑ کے نہیں جایا کرتا۔بندے چھوڑ جاتے ہیں مگر اللہ نہیں چھوڑا کرتا۔یہ خدا تعالیٰ کی وفا کی ایک صفت ہے جو انسانوں میں ہم نے نہیں دیکھی۔شعروں میں بھی آپ نے اس مضمون کو بیان کیا ، نثر میں بھی اس مضمون کو بیان کیا اور اس شدت سے بیان کیا ہے کہ صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جس کے ساتھ ضرور خدا رہتا ہے۔ورنہ اس طرف توجہ ہی نہیں پیدا ہوسکتی خیال ہی دل میں نہیں گزرتا اور اللہ کے بندوں کے سوا جو دنیا میں خدا کے بندے بنے پھرتے ہیں ان کی تحریرات دیکھ لیں، ان کے خطبات کو سن لیں سب ان چکروں سے خالی ہیں ان کو تجربہ ہی کوئی نہیں ہے۔ملائیت کی باتیں سن کر دیکھیں ان باتوں میں کتنا فرق ہے۔وَلْيُؤْمِنُوالی پھر مجھ پر ایمان لائیں میرے بن کر ، لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا کہ وہ رشد پالیں۔یہ رُشد وہ ہے جو سب سے آخر کی رشد ہے اس کے بعد ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو جاتی ہے۔پس یہ رمضان ہے جس میں ہم عنقریب داخل ہونے والے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ میں سے جس نے بھی اس خطبے کو سنا ہے وہ رمضان میں جانے سے پہلے پوری تیاری کرے گا۔وہ لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ مشکل ہے ان کے لئے میرا پیغام ہے کہ دیکھنے میں مشکل لگتی ہے ہم سب کو یہ تجربہ ہے کہ رمضان میں داخل ہونے سے پہلے مشکل لگا کرتی ہے مگر اللہ تعالیٰ مشکل کو آسان بھی کر دیا کرتا ہے اور یہ وعدہ خصوصیت کے ساتھ یاد رکھنا چاہئے۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ۔پس اللہ اگر آسانی چاہتا ہے تو وہ آپ کے رمضان کو آپ کے لئے آسان کر دے گا۔دعائیں کریں گے تو ایسا ہی ہوگا۔اب الله روزے سے متعلق حضرت اقدس رسول اللہ ﷺ کے چند اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔