خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 934 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 934

خطبات طاہر جلد 16 934 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء کرتا ہے، کیا کیا کوششیں بجالاتا ہے۔فرمایا: نماز تو وہ چیز ہے جس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے مگر جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد ،، اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔“ اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ یہ وہی مضمون ہے جو اس آیت سے تعلق رکھتا ہے جس کی میں نے تلاوت کی تھی۔فرماتے ہیں: خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔“ پس نماز میں صبر کے ساتھ جو استعانت کی تلقین ہے اس کا مرجع بھی نماز ہی ہے۔یعنی خدا سے صبر کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ مدد مانگو مگر اول مدد یہ ہو کہ اللہ تمہیں نماز نصیب کرے۔اگر اس طرح آپ دعائیں کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشوع و خضوع پیدا نہیں ہوسکتا۔اس لئے چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 403) جن لوگوں کے لئے نماز میں لمبا عرصہ کوشش ممکن نہیں یعنی ابھی ان کو اس کا سلیقہ نہیں آیا، ابھی اس کا بوجھ محسوس ہوتا ہے ان کا یہ علاج ہے۔عام دن کی گھڑیوں میں جب وہ با قاعدہ نظم وضبط میں باندھے ہوئے نہیں ہوتے وہ آزاد ہوتے ہیں سوچنے میں، چلنے پھرنے میں ، ہر چیز میں فرمایا اس وقت بھی دعائیں کرو۔جب بھی خیال آئے دعا کرو کہ اللہ جس طرح ہمیں اس ظاہری آزادی میں مزہ آ رہا ہے اس پابندی میں بھی مزہ آ جائے جو تیری خاطر برداشت کرتے ہیں اور یہ آزادی پابندی دکھائی دے اور پابندی جس میں ہم تیرے حضور حاضر ہوں وہ آزادی دکھائی دے۔یہ دعا ہے جس کو اگر آپ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نصیحت فرمائی ہے مانگیں گے تو الدنيا سجن للمؤمن وجنة للكافر ( صحیح مسلم كتاب الزهد والرقائق : 14058) کے معنی آپ کو سمجھ آجائیں گے۔اصل یعنی حقیقی معنی کہ مومن خود بھاگ بھاگ کر قید خانے میں دوڑتا ہے جس کو کا فرقید خانہ دیکھ